سنتوش دیشمکھ قتل کیس میں نیا موڑ، خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں
بیڑ ، 25 مارچ (ہ س) بیڑ میں سرپنچ سنتوش دیشمکھ قتل کیس کی سماعت کے بعد متاثرہ خاندان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ بنایا جا رہا ہے، جس سے کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔متوفی کے بھائی دھننجے دیش
Crime-Maha-Sarpanch-Murder


بیڑ ، 25 مارچ (ہ س) بیڑ میں سرپنچ سنتوش دیشمکھ قتل کیس کی سماعت کے بعد متاثرہ خاندان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ بنایا جا رہا ہے، جس سے کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔متوفی کے بھائی دھننجے دیشمکھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم نمبروں سے مسلسل فون کالز آ رہی ہیں، جن میں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس دباؤ کا مقصد قانونی کارروائی کو کمزور کرنا ہے، جس کے باعث خاندان شدید خوف میں مبتلا ہے۔یہ واقعہ 9 دسمبر 2024 کو پیش آیا تھا، جب سنتوش دیشمکھ کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت اس کیس کی تفتیش سی آئی ڈی کے سپرد ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان نمبر 3 سے 7 کی جانب سے خصوصی سرکاری وکیل اجول نکم کی تقرری ختم کرنے کی درخواست دی گئی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔اسی سماعت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مرکزی ملزم کرشنا آندھلے گزشتہ 14 ماہ سے مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے سی آئی ڈی نے ایک لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔اس مقدمے میں تمام ملزمان کے خلاف ‘مکوکا’ کے تحت کارروائی جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ بلا خوف قانونی لڑائی جاری رکھ سکیں۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande