منجلیگاؤں ریت معاملہ، پولیس ملی بھگت کے الزامات ثابت نہ ہو سکے
بیڑ ، 25 مارچ (ہ س) منجلیگاؤں میں مبینہ ریت اسمگلنگ اور پولیس کی ملی بھگت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں کوئی مضبوط یا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس
Politics-Maha-Nashik-Case


بیڑ ، 25 مارچ (ہ س) منجلیگاؤں میں مبینہ ریت اسمگلنگ اور پولیس کی ملی بھگت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں کوئی مضبوط یا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں شامل تین مشتبہ افراد کے موبائل فون ضبط کیے گئے تھے اور جدید تکنیکی وسائل کے ذریعے حذف شدہ ڈیٹا کو دوبارہ حاصل کر کے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود پولیس اور اسمگلروں کے درمیان کسی براہ راست تعلق یا سازباز کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق اس معاملے میں ایک حوالدار کے خلاف بدعنوانی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل کیا گیا ہے، جبکہ ایک پولیس انسپکٹر کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے پر اس کا تبادلہ کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحقیقات کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اہلکاروں کو کنٹرول روم میں تعینات رکھا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی مداخلت نہ ہو۔

حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری رہے گی اور تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، جبکہ تفتیشی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande