یو سی سی بل 2026 گجرات اسمبلی میں پیش کیا گیا، یکساں قانون کے نفاذ کی طرف ایک بڑا قدم
گاندھی نگر، 24 مارچ (ہ س)۔گجرات حکومت نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل 2026 پیش کیا۔ وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے اسے ’گجرات بل نمبر 17 آف 2026‘ کے طور پر پیش کیا اور اس پر طویل بحث ہوئی۔ بل کے تعارف کے دوران، حکمراں پارٹی
یو سی سی بل 2026 گجرات اسمبلی میں پیش کیا گیا، یکساں قانون کے نفاذ کی طرف ایک بڑا قدم


گاندھی نگر، 24 مارچ (ہ س)۔گجرات حکومت نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل 2026 پیش کیا۔ وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے اسے ’گجرات بل نمبر 17 آف 2026‘ کے طور پر پیش کیا اور اس پر طویل بحث ہوئی۔ بل کے تعارف کے دوران، حکمراں پارٹی کے ارکان نے ’جئے شری رام‘ کے نعرے بھی لگائے۔اس اقدام کے ساتھ، گجرات اتراکھنڈ کے بعد دوسری ریاست بن گئی ہے جو یو سی سی کو لاگو کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد تمام مذاہب کے شہریوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور لیو ان ریلیشن شپ سے متعلق قوانین کو یکساں بنانا ہے۔

وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے ایوان سے اپنے تقریباً 25 منٹ کے خطاب میں کہا کہ اس بل کا مقصد کسی بھی برادری کی ثقافت کو تباہ کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قبائلی معاشرے کی روایات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور یہ قانون خواتین اور بچوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل تمام پہلوو¿ں پر وسیع غور و خوض کے بعد تیار کیا گیا ہے۔بل کے مطابق ریاست میں شادی کی رجسٹریشن لازمی ہو گی اور ایسا نہ کرنے پر 10 ہزار روپے تک جرمانہ ہو گا۔ ایک سے زیادہ شادیوں کی سزا چار سال تک قید ہے۔ طلاق کے قوانین تمام مذاہب کے لیے یکساں ہوں گے، اور عدالتی نظام سے باہر حاصل کی گئی طلاقیں باطل ہوں گی۔لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑوں کے لیے تین ماہ کے اندر اندراج کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایسے تعلقات کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور ممکنہ دھوکہ دہی کو روکنا ہے۔ ان رشتوں سے پیدا ہونے والے بچے جائز سمجھے جائیں گے اور انہیں تمام قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص نے وصیت نہیں کی ہے تو اس کے والدین، بیوی اور بچوں کو اس کی جائیداد میں برابر کا حصہ ملے گا۔سماجی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے، حکومت نے درج فہرست قبائل (ایس ٹیز) اور بعض روایتی برادریوں کو اس قانون کے دائرہ کار سے خارج کر دیا ہے۔ مزید برآں، رشتہ داری کی شادیاں، جو کچھ کمیونٹیز میں رائج ہیں، کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بل سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے وسیع عوامی ان پٹ اور قانونی پہلوو¿ں کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی۔کانگریس نے کہا کہ بل کو آنے والے انتخابات کی وجہ سے جلد بازی میں لایا گیا۔ اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بل کی مخالفت کی اور حکومت پر جلد بازی کا الزام لگایا۔ کانگریس ایم ایل اے امیت چاوڈا نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا اور قانون سازوں کو اس کا مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آئندہ انتخابات کی وجہ سے بل میں جلدی کی۔

ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے کہا کہ آج کا دن ریاست کے لئے تاریخی ہے اور اسے سنہری دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد بھی پرسنل لاز میں معاشرے اور مذہب کی بنیاد پر تفریق پائی جاتی ہے جس سے خواتین اور بیٹیوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔جیسے ہی گجرات قانون ساز اسمبلی میں یو سی سی بل پیش کیا گیا، اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے کارکنوں نے احمد آباد میں بل کے خلاف احتجاج کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande