
نئی دہلی، 24 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں گزشتہ 25 دنوں سے جاری فوجی تنازعہ کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کے حوالے سے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
منگل کو وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بات کرنے کے لیے فون کیا ہے۔ بھارت خطے میں کشیدگی میں کمی اور جلد از جلد امن کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی مفادات کے لیے ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا، محفوظ اور سب کے لیے قابل رسائی رہے۔
مودی اور ٹرمپ نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کے حوالے سے رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب مغربی ایشیا میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور عالمی توانائی کی فراہمی پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
اس سے قبل نئی دہلی میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بھی 'ایکس' پر ٹرمپ اور مودی کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شیئر کی تھیں۔ گور نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد