
نئی دہلی، 24 مارچ (ہ س)۔ آندھرا پردیش اور اڈیشہ کی حکومتوں نے دیہی علاقوں میں پائیدار، شفاف اور کمیونٹی پر مبنی پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس اقدام کو جل جیون مشن 2.0 کے تحت ہر گھر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے مقصد کی طرف ایک اہم پہل سمجھا جاتا ہے۔دونوں ریاستوں نے مرکزی وزیر آبی توانائی سی آر پاٹل کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔ آندھرا پردیش کی طرف سے وزیر اعلیٰ نارا چندرابابو نائیڈو اور نائب وزیر اعلیٰ کے پون کلیان نے شرکت کی جبکہ اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی اور اعلیٰ حکام نے عملی طور پر شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی آر پاٹل نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 باقی گھرانوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کرنے، موجودہ بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیوں کو دور کرنے، اور پائیدار پانی کی فراہمی کے نظام کی تشکیل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ انہوں نے کمیونٹیز میں منصوبوں کی باضابطہ منتقلی، خواتین کو پانی کے معیار کی جانچ، اور پانی کے تحفظ اور زمینی پانی کو ری چارج کرنے کی تربیت دینے پر زور دیا۔آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ نائیڈو نے کہا کہ ریاستی حکومت ہر گھر کو نل کا پانی فراہم کرنے کے لیے پابند عہد ہے اور اس مشن کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ اوڈیشہ کے وزیر اعلی ماجھی نے اسے ’ہر گھر جل‘ (ہر گھر کے لیے پانی) اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’سوجل بھارت‘ پر پانی کی فراہمی کے اثاثوں کا اندراج کر رہی ہے اور نگرانی اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے گاو¿ں کو منفردآئی ڈی تفویض کیے جا رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan