ایرانی صدر کا امریکی و اسرائیلی جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ
تہران،22مارچ(ہ س)۔بھارت میں قائم ایرانی سفارت خانے نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور وسیع تر تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے
ایرانی صدر کا امریکی و اسرائیلی جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ


تہران،22مارچ(ہ س)۔بھارت میں قائم ایرانی سفارت خانے نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور وسیع تر تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی’جارحیت‘ کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔صدر بزشکیان نے ہفتے کے روز وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس دوران پزشکیان نے مودی کو بتایا کہ مستقبل میں اس طرح کی ’جارحیت‘ کے اعادہ کو روکنے کے لیے ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے برکس ممالک کے رکن ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف ’جارحیت روکنے‘ کے لیے اپنا آزادانہ کردار ادا کریں۔ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق پزشکیان نے غیر ملکی مداخلت کے بغیر امن کو یقینی بنانے کے لیے مغربی ایشیا کے ممالک پر مشتمل ایک علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی تجویز بھی پیش کی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر اپنی ایک علیحدہ پوسٹ میں بتایا کہ پزشکیان کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں اہم بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ مودی نے جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ اور بحری گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس سے قبل ایرانی صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ہمارے اختلافات کا واحد فائدہ اٹھانے والا اسرائیل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کے ملک کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں۔یاد رہے کہ ایرانی صدر نے گذشتہ بدھ کو خلیجی خطے میں گیس کی تنصیبات پر ہونے والی بمباری کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جارحانہ اقدامات‘ اسرائیل، امریکہ یا ان کے اتحادیوں کے مفاد میں نہیں ہوں گے بلکہ یہ صرف صورتحال کو مزید بگاڑنے کا سبب بنیں گے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل الخطیب کا جنازہ مذہبی شہر قم میں ادا کیا گیا، جو مزارات اور علماءکا مرکز ہے۔ الخطیب گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ ان اعلیٰ ایرانی حکام میں شامل تھے جو اس جنگ میں مارے گئے ہیں، جن میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔اسی طرح ایران نے ہفتے کے روز پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی کا جنازہ بھی ادا کیا، جو گذشتہ جمعہ ایک اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوئے تھے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن اور دیگر میڈیا ذرائع نے نائینی کی نمازِ جنازہ کے مناظر نشر کیے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande