
تہران،22مارچ(ہ س)۔دنیا کے 22 ممالک نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی ایران کی جانب سے اس تزویراتی گزرگاہ کی بندش کی شدید مذمت کی ہے۔بحرین اور متحدہ عرب امارات سمیت 22 ممالک، جن میں اکثریت یورپی ممالک کی ہے، نے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ ہم آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں تعاون کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم تیاری کی منصوبہ بندی میں شامل ممالک کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
’اے ایف پی‘کے مطابق ان ممالک نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں پر حالیہ ایرانی حملوں، تیل و گیس کی تنصیبات سمیت شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور ایرانی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز کی عملی بندش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔آبنائے ہرمز کے بارے میں یہ مشترکہ بیان بحرین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، جاپان، کینیڈا، جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، لٹویا، سلووینیا، اسٹونیا، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، جمہوریہ چیک، رومانیہ اور لتھوانیا کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ان ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی دھمکیاں، بارودی سرنگیں بچھانے کا عمل، ڈرون و میزائل حملے اور تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام کوششیں فوری طور پر بند کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی تعمیل کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے، جس میں سمندروں کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی دفعات بھی شامل ہیں۔ ایران کے اقدامات کے اثرات دنیا بھر کے لوگوں، بالخصوص کمزور طبقات پر پڑیں گے۔ان ممالک نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت تیل کے تزویراتی ذخائر کو مربوط طریقے سے جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ توانائی کی منڈیوں میں استحکام لانے کے لیے مزید اقدامات کریں گے، بشمول پیداوار بڑھانے کے لیے بعض پیدا کنندہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ممالک اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کو مدد فراہم کریں گے۔اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ تہران نے ابھی تک آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم پاسداران انقلاب نے اس حیاتیاتی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول کا اعلان کر دیا ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔پاسداران انقلاب نے گذشتہ جمعرات کو خلیج میں ایک امریکی تیل بردار جہاز کو میزائل سے نشانہ بنانے کی بھی تصدیق کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan