
تہران، 21 مارچ (ہ س)۔
ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اماراتی سرزمین سے ایرانی جزائر ابو موسیٰ اور گریٹر تنب پر حملہ کیا گیا تو ایران متحدہ عرب امارات کے شہر راس الخیمہ پر زبردست حملہ کر کے اسے تباہ کر دے گا۔ تہران نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے خلاف کسی بھی لانچنگ پوائنٹ کو نشانہ بنائے گا اور اس طرح کی کارروائی کا پہلے بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔
فلسطین کرانیکل اخبار کے مطابق، ایران کے خاتم الانبیاء کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے واضح طور پر کہا کہ اگر متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ابو موسیٰ اور گریٹر تنب جزائر پر جارحیت دہرائی گئی تو ہم راس الخیمہ پر حملہ کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے خلاف کسی بھی لانچنگ پوائنٹ کو نشانہ بنائے گا اور اس طرح کی کارروائی کا پہلے بھی اعلان کیا گیا ہے اور عملی طور پر ثابت بھی ہو چکا ہے۔
یہ انتباہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے درمیان آیا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں ایران نے کئی میزائل حملے کیے ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ حملوں میں کردار ادا کیا، خاص طور پر ابو موسیٰ اور خرگ جزائر پر۔ ذوالفقاری نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بندرگاہوں، ڈاکوں اور امریکی اڈوں سے دور رہیں تاکہ ممکنہ جوابی حملے میں معصوم لوگوں کو نقصان نہ پہنچے۔ کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے راس الخیمہ کے رہائشیوں کے لیے انخلاء کا نقشہ بھی جاری کیا ہے، جس میں ممکنہ حملوں کی وارننگ دی گئی ہے۔
ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اپوزیشن اب مایوسی کی حالت میں ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو فتح کا یقین دلانے سے قاصر ہیں اور غلط معلومات کا سہارا لے رہے ہیں۔ عزیزی نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز سمیت ایران کے مسلط کردہ حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ امریکی فوج کی اضافی تعیناتی اور ممکنہ بحری ناکہ بندی کی خبروں کا جواب دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے تزویراتی توازن نہیں بدلے گا بلکہ صورتحال مزید خراب ہو گی۔ ایران اعلیٰ ترین فوجی تیاری پر ہے اور ”فیصلہ کن جواب“ کے لیے تیار ہے۔ حالیہ میزائل حملے جوابی کارروائی اور متحدہ مزاحمتی محاذ کو مضبوط کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
عزیزی نے ان دعوو¿ں کو مسترد کیا کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ اور دیگر رہنماو¿ں کی ہلاکت کے بعد مزاحمت کا محور کمزور ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان سمیت کئی علاقوں میں محاذ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے علاقائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ ایران کا خیال ہے کہ غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ