
بحرِ ہند میں امریکی طاقت کے مرکز ڈئیگو گارسیا پر ایران نے میزائل داغی
تہران، 21 مارچ (ہ س)۔ ایران نے بحرِ ہند میں موجود امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈئیگو گارسیا پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے ڈئیگو گارسیا بیس پر درمیانی رینج کے دو میزائل داغے۔ تاہم یہ میزائل امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے اور بیس کو کوئی نقصان نہ پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران انٹرنیشنل نے وال اسٹریٹ جنرل کے حوالے سے جمعہ کو بتایا کہ ایران نے بحرِ ہند میں واقع ڈئیگو گارسیا فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے۔ جس میں ایک میزائل پرواز کے دوران ناکام رہا اور دوسرے کو امریکی ایس ایم-3 نظام نے روک لیا، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اڈے پر نہیں گرا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایران نے یہ میزائل کب داغے تھے۔
ایران کے میزائل فوجی اڈے کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے لیکن اس حملے نے ایران کی میزائل صلاحیت کے حوالے سے نئی بحث شروع کر دی ہے۔ ایران سے ڈئیگو گارسیا کا فاصلہ تقریباً 3,795 سے 4,118 کلومیٹر ہے جو ایران کی اب تک معلوم کسی بھی میزائل صلاحیت سے زیادہ فاصلے پر ہے۔
بحرِ ہند کے عین وسط میں واقع ڈئیگو گارسیا ایک چھوٹا جزیرہ ہے، لیکن اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت بڑی ہے۔ چاگوس جزائر کا حصہ یہ جزیرہ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک اہم مشترکہ فوجی مرکز ہے، جس میں بمبار طیارے، بحری اثاثے اور دیگر طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتیں موجود ہیں۔
اس کا انتظام بنیادی طور پر امریکہ کی طرف سے کیا جاتا ہے اور یہ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا تک پھیلے ہوئے وسیع علاقے میں اس کی فضائی اور بحری کارروائیوں کے لیے اہم مرکز ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ امریکہ نے اسی جزیرے سے خلیج اور عراق جنگ کو کنٹرول کیا تھا۔ اب ایران جنگ میں بھی یہ اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن