
واشنگٹن،20مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے بنیامین نیتن یاہو کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کے توانائی کے مراکز پر حملہ نہ کریں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس بات سے اتفاق کیا ہے۔ اوول آفس میں جاپانی وزیراعظم سانائی تاکائچی سے ملاقات کے دوران ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جی ہاں، یہ سچ ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، اور وہ اب ایسا دوبارہ نہیں کریں گے۔ یاد رہے 18 مارچ 2026 کو اسرائیلی فضائیہ نے صوبہ بوشہر میں واقع جنوبی پارس گیس فیلڈ اور عسلویہ پروسیسنگ سینٹر سے منسلک تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کو شدید ترین قرار دیا گیا تھا۔
فرانس پریس کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایران میں اپنی فوجیں تعینات نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کے یہ بیانات جاپانی وزیراعظم سانائی تاکائچی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں سامنے آئے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 2500 امریکی میرینز خطے میں پہنچ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے منظر ناموں پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے بعض ایرانی جزیروں پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا کہ ایران پر جنگ کے اثرات برے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جلد ہی اس سے نمٹ لیں گے۔ ان کا اشارہ اس جنگ کے خاتمے کی طرف تھا جو اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ جواب میں ایران اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف پر بمباری کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ایران اس وقت نئے رہنماو¿ں کی تلاش میں ہے۔ واضح رہے اسرائیل نے منگل کو ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی کو قتل کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے جمعرات کو یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ سب کی جانب سے آبنائے ہرمز کا دفاع کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے ان ممالک پر زور دیا جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو رہے ہیں کہ وہ اسے محفوظ بنانے کی کوششوں میں حصہ لیں۔ تاہم نیٹو ممالک نے اس مشن میں اتحاد کی شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ تہران نے سمندری بارودی سرنگوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور ان ٹینکرز پر بمباری کی ہے جنہوں نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے اس سٹریٹجک آبنائے کے ذریعے عالمی تجارت رک گئی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو توانائی کے مراکز پر حملے سے باز رہنے کا کہا ہے۔ قطر نے دو دن قبل جنوبی پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قدم قرار دیا تھا۔ امارات نے اسے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ یہ فیلڈ ایران کی مقامی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد قدرتی گیس فراہم کرتی ہے اور یہ جنوبی پارس/نارتھ فیلڈ کا حصہ ہے جو دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے اور ایران و قطر کے درمیان مشترکہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan