ایران کے پاس یورینیم افزودگی یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت باقی نہیں رہی: نیتن یاہوکا دعویٰ
تل ابیب،20مارچ(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے صرف 20 دن بعد ایران اب یورینیم کی افزودگی یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو ن
ایران کے پاس یورینیم افزودگی یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت باقی نہیں رہی: نیتن یاہوکا دعویٰ


تل ابیب،20مارچ(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے صرف 20 دن بعد ایران اب یورینیم کی افزودگی یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ فوجی مہم کی توجہ ایرانی میزائل اور جوہری پروگرام کی مکمل تباہی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 20 دن بعد میں آپ کو کسی بھی قسم کے میزائل یا جوہری ہتھیار بنانے کی ایرانی صلاحیتوں کے خاتمے کی خوشخبری دے سکتا ہوں۔ نتن یاہو نے بحیرہ کیسپین میں ایرانی بیڑے کی تباہی کی بھی تصدیق کی۔اسرائیلی وزیر اعظم نے زور دیا کہ جنگ جاری ہے اور ان کا ملک ایران پر فضا سے حملے کر رہا ہے اور اس کی قیادت کو زیر زمین اور سمندر سے نشانہ بنا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ انہوں نے فوج اور موساد کو ایرانی نظام کے حکام کو گلیوں میں بھی نشانہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے رہنماو¿ں کے شکار پر کام جاری ہے۔ تاہم نتن یاہو نے اندرون ملک سے نظام کو گرانے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔ داخلی محاذ کے حوالے سے نتن یاہو نے اسرائیلیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا اس سے حکومت اور فوج کو فوجی کارروائیوں میں مدد ملتی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے آج جمعرات کو اعلان کیا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے بدھ کے روز بحیرہ کیسپین میں ایران کے کئی جنگی جہازوں پر بمباری کی۔ یہ گزشتہ 28 فروری کو موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نداف شوشانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل وہاں ایرانی بحری صلاحیتوں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اہداف میں میزائل سسٹم سے لیس جہاز، معاون جہاز اور گشتی کشتیاں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں بندرگاہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ نشانہ بنائے گئے ایرانی جہاز فضائی نگرانی کے نظام اور اینٹی سب میرین میزائلوں سے بھی لیس تھے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ” شیر کی دھاڑ “ آپریشن کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج کے اہم ترین حملوں میں سے ایک ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے ایسا کیا ہے، ہم ان کے اس شپ یارڈ کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں جہاں وہ جہازوں کی مرمت یا نئے جہاز بنا سکتے تھے۔ اسی تناظر میں شوشانی نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ایران بھر میں 200 سے زائد اہداف پر بمباری کی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے حیفا کے علاقے میں میزائل گرنے کا اعلان کیا اور مزید کہا کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں حیفا شہر میں ایک آئل ریفائنری متاثر ہوئی جس سے نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے ایسی تصاویر نشر کیں جن میں ریفائنری کے گردونواح سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے گئے۔ اتھارٹی نے کہا کہ خطرناک مواد کے اخراج کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے کہا کہ ایران کے تازہ ترین میزائل حملے کے بعد شمالی اسرائیل میں بجلی کا نیٹ ورک کچھ حد تک متاثر ہوا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کی حیفا اور اشدود ریفائنریوں پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل میں کئی تزویراتی اہمیت کے حامل مقامات پر حملوں کا اعلان کیا تھا جن میں تل ابیب کا بین گوریان ہوائی اڈہ اور متعدد آئل ریفائنریاں شامل ہیں۔ پاسداران نے کہا کہ یہ حملے ڈرونز اور قادر، عماد، خیبر شکن اور خرم شہر میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔ایرانی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف فوجی جواب کی کارروائی موج 64 کے فریم ورک کے تحت اسرائیلی قومی سلامتی کی وزارت اور تل ابیب میں تیرہویں ٹی وی چینل کے دفتر کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایرانی سرزمین سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے جانے کے ایک نئے عمل کی نشاندہی کا اعلان کیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande