
تہران،20مارچ(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کی توانائی کی تنصیبات پر دوبارہ حملہ ہوا تو تہران کسی قسم کے تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ عراقجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ایکس “ پر کہا کہ ہم نے اپنے بنیادی ڈھانچے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں اپنی طاقت کا محض ایک چھوٹا سا حصہ استعمال کیا ہے۔ ہمارے تحمل کی واحد وجہ کشیدگی کم کرنے کی درخواست کا احترام کرنا ہے۔ اگر ہمارے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملہ ہوا تو کوئی تحمل نہیں دکھایا جائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب خبر رساں ادارے ” رائٹرز“نے تین اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کے روز ایران میں جنوبی پارس فیلڈ کی گیس تنصیبات پر اسرائیلی حملہ امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی سے کیا گیا تھا لیکن اس کے دہرائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ جنوبی پارس فیلڈ پر حملے نے ایران کو قطر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملہ کرنے پر اکسایا جو تقریباً تین ہفتوں سے جاری جنگ میں ایک نئی شدت ہے۔اسرائیل نے جنوبی پارس فیلڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے گزشتہ شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ واشنگٹن کو اس مخصوص حملے کا علم نہیں تھا اور اسرائیل گیس فیلڈ پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ ایران قطر پر حملہ نہ کرے۔ تین اسرائیلی حکام، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹررز سے بات کی، نے کہا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے بیانات پر حیران نہیں ہوا۔ انہوں نے اس صورتحال کو اس واقعہ سے مشابہ قرار دیا جب اسرائیل نے چند ہفتے قبل ایران میں ایندھن کے گوداموں پر بمباری کی تھی۔ ان حملوں کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ اس مخصوص معاملے میں، وہ ہمارے حملے نہیں تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan