ایران پر اب تک 12ہزار بم گراچکا ہے اسرائیل، اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر
تہران،20مارچ(ہ س)۔ایرانی میڈیا نے آج جمعہ کو بندر عباس اور خوزستان پر شدید حملوں اور ملک کے جنوبی حصوں پر بڑے پیمانے پر ضربوں کی اطلاع دی ہے۔بم باری کی یہ لہر ملک کے وسط میں واقع اصفہان تک جا پہنچی، جو ایک فوجی مقام کے قریب ہے۔مقامی ایرانی ویب سائٹ
ایران پر اب تک 12ہزار بم گراچکا ہے اسرائیل، اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر


تہران،20مارچ(ہ س)۔ایرانی میڈیا نے آج جمعہ کو بندر عباس اور خوزستان پر شدید حملوں اور ملک کے جنوبی حصوں پر بڑے پیمانے پر ضربوں کی اطلاع دی ہے۔بم باری کی یہ لہر ملک کے وسط میں واقع اصفہان تک جا پہنچی، جو ایک فوجی مقام کے قریب ہے۔مقامی ایرانی ویب سائٹس نے بتایا ہے کہ لنجہ بندرگاہ پر بم باری کے نتیجے میں متعدد کشتیاں جل گئی ہیں۔اسرائیلی میڈیا نے مغربی جلیل میں ایک ایرانی میزائل کے ٹکڑے گرنے کے مناظر نشر کیے ہیں، جو اسرائیل کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے والی ایرانی میزائل باری کی نئی لہر کا حصہ ہے۔ایرانی ایجنسی فارس نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے وعد صادق 4 آپریشن کے ضمن میں میزائل حملوں کی نئی لہر کی تفصیلات نقل کی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ 66 ویں لہر مقامی وقت کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب 1:20 بجے شروع ہوئی۔اسی ذریعے کے مطابق پاسداران انقلاب نے اشارہ کیا کہ ان حملوں میں ٹھوس اور مائع ایندھن پر چلنے والے میزائل سسٹم استعمال کیے گئے، جنہیں انتہائی وزنی، درست ہدف کو نشانہ بنانے والے اور کثیر المقاصد وار ہیڈز کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ ان میں قدر، خرمش?ر اور خیبر شکن میزائلوں کے ساتھ ساتھ درمیانی حد کے ’قیام‘اور ’ذو الفقار‘ میزائل اور خودکش ڈرونز بھی شامل تھے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی نظام سے وابستہ 130 سے زائد بنیادی ڈھانچے کے مقامات پر حملے کیے ہیں۔اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاونٹ کے ذریعے ایک بیان میں کہا:گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے طول و عرض میں درجنوں فضائی حملے مکمل کیے گئے، جن میں ایرانی نظام کے 130 سے زائد بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اسرائیلی فوج ایران بھر میں ایرانی نظام کے بیلسٹک میزائل سسٹم اور دفاعی نظاموں کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران فضائیہ نے ملٹری انٹیلی جنس کی ہدایت پر مغربی اور وسطی ایران میں درجنوں فضائی حملوں کے ذریعے ایرانی نظام کے 130 سے زائد بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا‘۔واضح کیا گیا کہ ’نشانہ بنائے گئے اہداف میں بیلسٹک میزائل لانچر، ڈرونز اور ایرانی دہشت گرد نظام کے فضائی دفاعی نظام شامل ہیں‘۔بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ فضائیہ مغربی اور وسطی ایران میں مسلسل حملے کر رہی ہے تاکہ اسرائیل کی سرزمین کی طرف فائرنگ کے حجم کو کم سے کم کیا جا سکے اور ایرانی فضائی حدود میں فضائی برتری کو وسعت دی جا سکے۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک فضائیہ نے ایران پر 12 ہزار سے زائد بم گرائے ہیں، جو ایرانی نظام کے ٹھکانوں پر 8500 سے زائد علیحدہ حملوں میں استعمال کیے گئے۔’ٹائمز آف اسرائیل‘ اخبار کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ’ہم نے 18 دنوں میں اتنی پروازیں کیں جو ہم پورے سال میں کیا کرتے تھے‘۔اسرائیلی فوج کے مطابق 12 ہزار میں سے 3600 بم ان حملوں میں استعمال ہوئے جن میں دارالحکومت تہران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے 5700 علیحدہ پروازیں کیں، جبکہ وسطی اور مغربی ایران میں حملوں کی 540 لہریں اور ملک کے مشرقی علاقوں کی گہرائی میں مزید 50 لہریں مکمل کیں۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایران کے اوپر مسلسل فضائی آپریشن کر رہی ہے تاکہ اسرائیل کی طرف بیلسٹک میزائل داغنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے لیے نئی ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں جو ایندھن بھرنے کی ضرورت کے بغیر طویل آپریشنز کی اجازت دیتی ہیں۔ان فارمیشنز میں، جنہیں اسرائیلی فضائیہ میٹرو فلائٹس کا نام دیتی ہے، ڈرونز اور جنگی طیارے فوری معلومات کی بنیاد پر بیلسٹک میزائل لانچرز، ایرانی فوجیوں اور دیگر اہداف پر حملوں سے قبل پوزیشن تبدیل کرتے ہیں۔جب کسی نئے ہدف کی نشان دہی ہوتی ہے تو اسرائیلی فضائیہ کے طیارے اسے نشانہ بنانے کے لیے تیزی سے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، یہی کچھ گذشتہ روز تہران میں ایرانی انٹیلیجنس کے وزیر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کے آپریشن میں ہوا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوشش ایران کے اوپر فضائی برتری برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ اس کے حملوں نے ایران کے فضائی دفاعی اور سراغ لگانے والے نظاموں کا تقریباً 85 فی صد حصہ تباہ کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایرانی فضائی دفاع سے وابستہ 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل لانچرز اور ریڈار شامل ہیں۔ایران کے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے حوالے سے اسرائیلی فضائیہ کا اندازہ ہے کہ اس نے ان کا 92 فیصد حصہ تباہ کر دیا ہے۔ اب ان میں سے صرف چند ہی باقی بچے ہیں، جن میں کچھ چھپے ہوئے اور غیر استعمال شدہ ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے پرانے فضائی دفاعی نظاموں کا تقریباً 80 فی صد اور اس کے ریڈارز کا بھی 80 فی صد حصہ تباہ کر دیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande