یورپی یونین کی جانب سے خطے کے ممالک کے خلاف ایرانی فوجی حملوں کی مذمت، ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے پرخاموشی
برسلز،20مارچ(ہ س)۔یورپی یونین کے رہنماوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، انتہائی ضبطِ نفس سے کام لینے، شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور تمام فریقوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام پر زور دیا۔یورپی کونسل نے جمعرات کے روز برسل
یورپی یونین کی جانب سے خطے کے ممالک کے خلاف ایرانی فوجی حملوں کی مذمت، ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے پرخاموشی


برسلز،20مارچ(ہ س)۔یورپی یونین کے رہنماوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، انتہائی ضبطِ نفس سے کام لینے، شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور تمام فریقوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام پر زور دیا۔یورپی کونسل نے جمعرات کے روز برسلز میں اپنے اجلاس میں خطے کے ممالک کے خلاف ایران کے اندھا دھند فوجی حملوں کی شدید مذمت کی اور متاثرہ ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کونسل نے بجلی کے گھروں اور واٹر پلانٹس پر حملے روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔کونسل نے رکن ممالک کی جانب سے ان کوششوں میں اضافے کے اعلان کا خیرمقدم کیا، جن میں خطے کے شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی بڑھانا شامل ہے، تاکہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔یورپی رہنماوں نے قبرص میں برطانوی اڈوں کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے قبرصی ارادے کو سراہا اور ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔رہنماوں نے بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے موجودہ بحری مشن (اسپائڈز) اور ہارن آف افریقا میں بحری قزاقی کے خلاف مشن (اٹلانٹا) کو ان کے اختیارات کے مطابق مزید وسائل کے ساتھ مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اتحادیوں پر تنقید کی جنہوں نے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد کی درخواست پر محتاط رد عمل دیا تھا، جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande