بنگال اسمبلی انتخابات: الیکشن کمیشن نے 15 آئی پی ایس افسران کو ریاست سے باہر بھیجا
کولکاتہ، 19 مارچ (ہ س):۔ مغربی بنگال میں اگلے ماہ ہونے والے دو مرحلوں کے اسمبلی انتخابات سے پہلے، الیکشن کمیشن نے ایک بڑا انتظامی قدم اٹھایا ہے، جس میں ریاستی حکومت کی طرف سے 15 انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسران کی متبادل تعیناتیوں کو منسوخ کر
بنگال اسمبلی انتخابات: الیکشن کمیشن نے 15 آئی پی ایس افسران کو ریاست سے باہر بھیجا


کولکاتہ، 19 مارچ (ہ س):۔

مغربی بنگال میں اگلے ماہ ہونے والے دو مرحلوں کے اسمبلی انتخابات سے پہلے، الیکشن کمیشن نے ایک بڑا انتظامی قدم اٹھایا ہے، جس میں ریاستی حکومت کی طرف سے 15 انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسران کی متبادل تعیناتیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کمیشن نے ان افسران کو دیگر انتخابی ریاستوں میں پولیس مبصر کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کی رات دیر گئے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں، کمیشن نے واضح کیا کہ جن افسران کو پہلے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور الیکشن سے متعلق ذمہ داریوں سے فارغ کیا گیا تھا، انہیں ریاست کے اندر دوسرے عہدوں پر رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ریاست سے باہر بھیجے گئے آئی پی ایس افسران میں آکاش مگھریا، آلوک راجوریا، امندیپ، ابھیجیت بنرجی، بھاسکر مکھرجی، سی سدھاکر، دھرتیمان سرکار، اندرا مکھرجی، مرلی دھر، مکیش، پروین کمار ترپاٹھی، پریہ برتا رائے، سندیپ کر ا، سید منیر خان، راجہ منار اور راشید شامل ہیں۔

ان میں سے مرلی دھر پہلے بیدھا نگر پولیس کمشنریٹ کے پولیس کمشنر تھے جبکہ سید وقار راجہ سلی گڑی میٹروپولیٹن پولیس کے پولیس کمشنر کے طور پر تعینات تھے۔

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعتیں بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مطالبہ تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ذمہ داریوں سے فارغ کیے گئے افسران کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک ریاست سے باہر بھیج دیا جائے تاکہ وہ کسی بھی طرح سے انتخابی عمل کو متاثر نہ کرسکیں۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاستی حکومت سے مشورہ کیے بغیر افسران کے تبادلے پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھ کر اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ 152 سیٹوں کے لیے 23 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 سیٹوں کے لیے 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے اس تازہ فیصلے کو منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande