روپالی چاکنکر کے استعفیٰ کا مطالبہ، ناسک کیس پر سیاست گرم
ممبئی ، 19 مارچ (ہ س) ناسک میں مبینہ عصمت دری کے سنگین الزام میں خود ساختہ نیومرولوجسٹ کیپٹن اشوک کھارات کی گرفتاری کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن روپالی چاکنکر کے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے
روپالی چاکنکر کے استعفیٰ کا مطالبہ، ناسک کیس پر سیاست گرم


ممبئی ، 19 مارچ (ہ س) ناسک میں مبینہ عصمت دری کے سنگین الزام میں خود ساختہ نیومرولوجسٹ کیپٹن اشوک کھارات کی گرفتاری کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن روپالی چاکنکر کے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

این سی پی (ایس پی) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص خود اپنا مستقبل نہیں جانتا، وہ دوسروں کی رہنمائی کیسے کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناسک کے اس مبینہ سیاسی نجومی اشوک کھارات پر سنگین الزامات عائد ہیں اور اس کے سیاسی روابط بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ کیا اجیت پوار کی پارٹی کی ترقی پسند شناخت اب ختم ہو چکی ہے، اور کہا کہ سامنے آنے والی ویڈیوز سے یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نام نہاد نجومی نے رہنماؤں کو کیا “مشق” سکھائی تھی۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما اکھل چترے نے کہا کہ خواتین پر ظلم کرنے والوں کی حمایت کرنے والوں کو کسی بھی عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ این سی پی کی رہنما روپالی پاٹل ٹھومبرے نے خبردار کیا کہ اگر روپالی چاکنکر فوری استعفیٰ نہیں دیتیں تو پورے مہاراشٹر میں تحریک شروع کی جائے گی، اور اس معاملے میں متعلقہ ٹرسٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

رکن اسمبلی امول مٹکری نے دعویٰ کیا کہ اس کیس کے روابط وی ایس آر کمپنی سے بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وی ایس آر کمپنی کے طیارہ حادثے میں سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی موت ہوئی تھی، اور اس طیارے کے پائلٹ کے ساتھ اشوک کھارات کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث معاملے کی مکمل اور گہرائی سے تحقیقات ضروری ہو گئی ہیں۔

اشوک کھارات کے خلاف شدید ہنگامہ جاری ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مذہبی عقیدے اور روحانی طاقت کے نام پر خواتین کا اعتماد حاصل کر کے ان کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا۔ کرائم برانچ یونٹ 1 نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا، جبکہ عدالت نے انہیں 24 مارچ 2026 تک پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان کے دفتر کی تلاشی کے دوران ضبط شدہ پین ڈرائیو سے 58 مشتبہ ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں، جبکہ ان کی بے نامی جائیدادوں کے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے کیس مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande