
ممبئی ، 19 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے سننر تعلقہ میں پیش آئے عصمت دری کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے، جو آئی پی ایس افسر تیجسوینی ستپوتے کی قیادت میں کام کرے گی۔ اس کی معلومات محکمہ داخلہ کے ذرائع نے دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس کیس میں گرفتار ملزم اشوک کھارات کے سننر تعلقہ کے میرگاؤں میں واقع فارم ہاؤس پر آج چھاپہ مار کارروائی کی گئی، جہاں سے بڑی تعداد میں ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے گئے۔ اس کے علاوہ وہاں سے ایک پستول اور کچھ زندہ کارتوس بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل ناسک پولیس نے ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران 58 سی ڈیز بھی ضبط کی تھیں، جنہیں تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اشوک کھارات پر الزام ہے کہ اس نے ایک 35 سالہ خاتون کو نیند کی گولی دے کر اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ اس شکایت کے بعد ناسک کے سرکارواڑہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ ناسک کرائم برانچ نے بدھ، 18 مارچ 2026 کو ملزم کو گرفتار کیا تھا۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ، 18 مارچ 2026 کو اسمبلی میں اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں اور اسی مقصد کے تحت ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب اس اعلان کے مطابق ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور معاملے کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے