
پٹنہ،17مارچ(ہ س)۔بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد کئی پرانے لیڈر اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ اسی تناظر میں سابق ایم پی کے سی تیاگی نے جے ڈی یو کو الوداع کہہ دیا ہے۔ اگرچہ وہ کچھ عرصے سے ناراض تھے لیکن انہوں نے مسلسل وزیراعلیٰ نتیش کمار سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا تھا۔جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری اور قومی ترجمان کے طور پر خدمات انجام دینے والے کے سی تیاگی جے ڈی یو سے راجیہ سبھا کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ نتیش کمار نے انہیں جے ڈی یو کا مشیر بھی مقررکیا، لیکن مسلسل نظرانداز کرنے کے بعد تیاگی نے جے ڈی یو کی رکنیت کی تجدید کاری نہیں کی۔ کے سی تیاگی نے ایک خط جاری کرکے اس کی جانکاری دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 22 مارچ کو سیاسی دوستوں اور تنظیموں کے ساتھ اجلاس بلایا گیا ہے جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔کے سی تیاگی نے بھی نتیش کمار کی تعریف کی۔ انہوں نے نتیش کمار کے ساتھ اپنے پانچ دہائیوں کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے پارٹی میں کام کیا تو انہوں نے جارج فرنانڈس، شرد یادو، اور نتیش کمار کے تحت قومی صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کے سی تیاگی نے یہ بھی کہا کہ وہ اب بھی بھارت رتن چودھری چرن سنگھ، رام منوہر لوہیا اور کرپوری ٹھاکر کے اصولوں پر قائم ہیں۔کے سی تیاگی نے طویل عرصے سے قومی ٹیلی ویژن پر پارٹی کی قومی ترجمان کے طور پر نمائندگی کی ہے۔ حال ہی میں تیاگی نے وزیر اعظم کو ایک خط بھیج کر نتیش کمار کو بھارت رتن دینے کی درخواست کی تھی۔ جس سے پارٹی میں شدید ناراضگی ہوئی۔ اس سے پہلے جب للن سنگھ پارٹی کے قومی صدر بنے تو انہوں نے پارٹی کے اندر کوئی عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے باوجود نتیش کمار نے انہیں پارٹی کا مشیر مقرر کیا۔ نتیش کمار جب پارٹی کے قومی صدر بنے تھے تب بھی انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا تھا اور ایک طرح سے تیاگی کی جے ڈی یو سے علیحدگی کا سبب تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس بار اپنی رکنیت بحال نہیں کی ہے۔ کے سی تیاگی نے کہا ہے کہ 22 مارچ کو ہونے والی میٹنگ کے بعد وہ فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan