
جموں, 17 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف جاری مہم کے دوران گزشتہ دو برسوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جن میں ہزاروں گاڑیوں کی ضبطی اور سینکڑوں مقدمات کا اندراج شامل ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 13,692 گاڑیاں ضبط کی گئیں، جبکہ 446 ایف آئی آر درج کی گئیں۔
مالی سال 25-2024 میں 6,219 گاڑیاں ضبط ہوئیں، جبکہ 26-2025 میں دسمبر تک یہ تعداد 7,473 تک پہنچ گئی، جو کارروائیوں میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔
قانونی کارروائی کے تحت 25-2024 میں 212 ایف آئی آر درج کی گئیں، جبکہ 26-2025 میں دسمبر تک 234 مقدمات درج کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی اور نفاذ میں اضافہ ہوا ہے۔
ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق 26-2025 میں کپواڑہ سرفہرست رہا جہاں 859 گاڑیاں ضبط کی گئیں، اس کے بعد کٹھوعہ اور بارہمولہ کا نمبر رہا۔ اسی طرح 25-2024 میں جموں ضلع میں سب سے زیادہ 880 گاڑیاں ضبط کی گئیں، جبکہ سانبہ اور بڈگام بھی نمایاں رہے۔
ایف آئی آر کے معاملے میں 26-2025 کے دوران بڈگام میں سب سے زیادہ 51 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ کپواڑہ اور بارہمولہ بھی سر فہرست اضلاع میں شامل رہے۔ 25-2024 میں بھی بڈگام نے 48 ایف آئی آر کے ساتھ سبقت حاصل کی، جبکہ گاندربل اور بانڈی پورہ میں بھی بڑی تعداد میں مقدمات درج ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ سخت نگرانی، دریائی علاقوں پر نظر رکھنے اور متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کا نتیجہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر