
جبل پور، 17 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں گوہل پور تھانہ علاقے کے تحت ردی چوکی کے پاس نالے کی صفائی کے دوران پیر کو میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو آرڈیننس فیکٹری میں استعمال ہونے والے بم کا خالی خول ملا تھا۔ گوہل پور تھانہ انچارج رتیش پانڈے نے بتایا کہ منگل کو مذکورہ بم کے خول کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کو معلومات بھیج دی گئی ہیں، ساتھ ہی آرڈیننس فیکٹری سے خط و کتابت کی جا رہی ہے جس کی اپ ڈیٹ ملتے ہی کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال بم کے خول کی گہرائی سے جانچ چل رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ شہر کے مشہور میٹل گودام بلاسٹ کیس میں فرار ملزم ہسٹری شیٹر شمیم کباڑی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس کے گھر کے پیچھے بنے نالے میں بم کا خول ملا تھا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گیا۔ جانچ کے بعد مشتبہ خول کو ضبط کر لیا گیا ہے اور پورے معاملے کی باریک بینی سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے فوجی استعمال کے دھماکہ خیز مواد کا حصہ مانا جا رہا ہے۔
یہ وہی شمیم کباڑی ہے، جس کے کھجری کھیریا میں واقع میٹل گودام میں اپریل 2024 میں شدید دھماکہ ہوا تھا۔ اس حادثے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنائی دی تھی اور اس میں مزدوروں کی جان چلی گئی تھی۔ واقعے کے بعد سے ہی ملزم اپنے خاندان سمیت فرار ہے۔ پولیس نے اس کی گرفتاری پر 30 ہزار روپے کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ابتدائی جانچ میں دھماکے کو گیس سلنڈر پھٹنے کا واقعہ بتایا گیا تھا، لیکن بعد میں تحقیقات میں آرمی گریڈ دھماکہ خیز مواد اور زندہ بم ملنے کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس کے باوجود مرکزی ملزم کا فرار ہونا پولیس کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا رہا ہے۔
اس نئی پیش رفت کے بعد ایک بار پھر شہر میں کباڑ کے نام پر چل رہے مشتبہ کاروبار پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کباڑ خانوں کی آڑ میں غیر قانونی اور خطرناک مواد کا ذخیرہ شہر کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ فی الحال پولیس پورے معاملے کی کڑیوں کو جوڑنے میں مصروف ہے اور فرار ملزم کی تلاش تیز کرنے کی بات کہہ رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن