ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کےلئے چین اور نیٹو سے مدد کی اپیل
واشنگٹن،16مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اٹلانٹیک کے دفاعی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) میں شامل امریکہ کے اتحادیوں کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی اتحادی آبنائے ہرمز کھولنے کی فوجی کوششوں میں تعاون کرنے میں ناکام رہے تو اس اتح
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کےلئے چین اور نیٹو سے مدد کی اپیل


واشنگٹن،16مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اٹلانٹیک کے دفاعی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) میں شامل امریکہ کے اتحادیوں کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی اتحادی آبنائے ہرمز کھولنے کی فوجی کوششوں میں تعاون کرنے میں ناکام رہے تو اس اتحاد کا مستقبل ’انتہائی بھیانک‘ ہوگا۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ وہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں ان کی شمولیت چاہتے ہیں۔اتوار کے روز اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک آٹھ منٹ طویل ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ طے شدہ سربراہی ملاقات کو ملتوی کر سکتے ہیں تاکہ بیجنگ پر اس اہم بحری گزرگاہ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے دباو¿ ڈالا جا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل مناسب ہے کہ جو لوگ اس آبنائے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے‘۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ کے برعکس یورپ اور چین کا انحصار خلیجی تیل پر بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی ردعمل نہ آیا یا ردعمل منفی ہوا تو میرا خیال ہے کہ یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہوگا‘۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں کے ردعمل کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یوکرین کے لیے واشنطن کی امداد کا حوالہ دیا: ’ہم بہت مہربان رہے ہیں، ہمیں یوکرین کی مدد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی جو ہم سے ہزاروں میل دور ہے لیکن ہم نے کی۔ اب ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ اس احسان کا بدلہ چکاتے ہیں، میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ ہم تو ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے لیکن وہ ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے‘۔امریکی صدر نے مطلوبہ امداد کی نوعیت ’ہر ممکن حد تک‘ قرار دیتے ہوئے اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مائن سویپر (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) بھیجیں، جن کی تعداد یورپ کے پاس واشنطن سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایرانی ساحلوں پر ان ’برے عناصر‘ کے خاتمے کے لیے کمانڈوز اور فوجی دستے بھیجنے کا بھی کہا جو بارودی سرنگیں بچھانے اور ڈرون اڑانے میں ملوث ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے رابطے کے بعد برطانوی موقف پر اپنی شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’برطانیہ کو پہلا اتحادی سمجھا جاتا ہے، جب میں نے انہیں آنے کو کہا تو وہ نہیں مانے، پھر جب ہم نے خطرہ تقریباً ختم کر دیا تو انہوں نے دو جہاز بھیجنے کی پیشکش کی، میں نے ان سے کہا کہ ہمیں جہاز فتح کے بعد نہیں بلکہ فتح سے پہلے چاہیے تھے‘۔میدانی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو ’تباہ‘ کر دیا ہے اور اب تہران کے پاس بحری سرنگوں کے ذریعے صرف ’مسائل پیدا کرنے‘ کی طاقت بچی ہے۔ انہوں نے ایرانی تیل کی برآمدات کے مرکز جزیرہ خارک پر نئے حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا: ’ہم نے گذشتہ روز پائپ لائنوں کے علاوہ وہاں ہر چیز کو نشانہ بنایا ہے، ہم انہیں پانچ منٹ میں تباہ کر سکتے ہیں‘۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو دو ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 45 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے بعد امریکی کوششیں اب تک اس بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ بیجنگ سے آبنائے ہرمز کھولنے میں تعاون کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنا 90 فیصد تیل اسی راستے سے منگواتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سربراہی ملاقات تک انتظار کرنا بہت دیر ہو جائے گی، اسی لیے دورہ ملتوی کرنے کا آپشن موجود ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے پیرس میں اپنے چینی ہم منصب خہ لیفینگ سے ملاقات کی ہے تاکہ سربراہی ملاقات کی تیاری کی جا سکے، تاہم بیجنگ نے جنگ کے باوجود اب تک ملاقات ملتوی کرنے کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی کیونکہ ایران اس کے لیے تیل کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande