ایم پی کرن کمار ریڈی کا موسی رینووینیشن منصوبے پر ٹی آر کو جواب
حیدرآباد،15 مارچ (ہ س) ۔ بھونگیری کے رکن پارلیمنٹ سی کرن کمارریڈی نے اتوارکو تلنگانہ حکومت کے مجوزہ موسی ندی کی بحالی منصوبے پر بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی تنقید کا سخت جواب دیا۔ اپنے بیان میں ایم پی نے کہا کہ وزیراعلیٰ
ایم پی کرن کمار ریڈی کا موسی رینووینیشن منصوبے پر ٹی آر کو جواب


حیدرآباد،15 مارچ (ہ س) ۔

بھونگیری کے رکن پارلیمنٹ سی کرن کمارریڈی نے اتوارکو تلنگانہ حکومت کے مجوزہ موسی ندی کی بحالی منصوبے پر بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی تنقید کا سخت جواب دیا۔ اپنے بیان میں ایم پی نے کہا کہ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے13 مارچ کو پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے موسی ندی کی بحالی منصوبے کے حقائق واضح طورپرپیش کیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف نکاسی آب کو صاف کر کے باہر نکالنے بلکہ دریائے گوداوری کا پانی موسی میں منتقل کر کے ندی کوبحال کرنے کامقصد رکھتا ہے۔ ریڈی نے کہاکہ وزیراعلیٰ موسی کو سابرمتی اورگنگا ریورفرنٹ ترقیاتی منصوبوں کی طرزپربحال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گجرات میں سابرمتی ریور فرنٹ کی ترقی کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماشہرکی ترقی کے لیے مل کر کام کرتے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کے ٹی آرنے وزیراعلیٰ کی پریزنٹیشن کے 24 گھنٹوں کے اندر گمراہ کن بیانات دیے اورجھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا، کیونکہ موسی منصوبہ جو بی آرایس حکومت کے دوران نافذ نہیں ہوا تھا، اب کانگریس حکومت آگے بڑھا رہی ہے۔

ایم پی نے سوال اٹھایا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دورِ حکومت میں موسی ندی کو کیوں ترقی نہیں دی گئی اور سابقہ حکومت پرکالیشورم جیسے منصوبوں کے ذریعے ریاست کوبھاری قرض میں دھکیلنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کے ٹی آراوربی جے پی رہنماؤں پرزوردیاکہ وہ احمد آباد میں سابرمتی ریورفرنٹ کا دورہ کریں اوردیکھیں کہ کس طرح ریورفرنٹ کی ترقی نے شہرکو بدل دیا ہے۔ دریں اثنا،کانگریس رہنماؤں نے ایم ایل سی ڈاکٹربالموری وینکٹ کی قیادت میں گاندھی بھون میں احتجاج کیااور کے ٹی آرکا پتلا جلایا، مطالبہ کیا کہ بی آرایس رہنما معین آباد کے ایک فارم ہاؤس میں سابق ایم ایل اے سے متعلق حالیہ ڈرگزپارٹی واقعے پروضاحت کریں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے اوربی آرایس قیادت سے وضاحت طلب کی۔۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande