
کولکاتا، 14 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو نندی گرام دیوس اور کسان دیوس کے موقع پر نندی گرام، سنگور اور نیتائی سمیت دنیابھر کے تمام شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ریاست کے کسانوں کے تئیں احترام کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ دن نندی گرام زرعی زمین کی تحریک کے شہیدوں کی یاد میں ہر سال یوم کسان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے تمام کسان بھائیوں اور بہنوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے نیک تمنائیں پیش کیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسان ریاست اور ملک کا فخر ہیں اور وہی انّ داتا ہیں، اس لیے ان کی ہر ضرورت میں ریاستی حکومت ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی حکومت کسانوں کو ”کرشک بندھو (نیا)“ اسکیم کے تحت مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت، کسانوں، برگاداروںاوربٹائی داروں کو 10,000 روپے کی سالانہ امداد دی جاتی ہے، جب کہ چھوٹی زمین والے کسانوں کو کم از کم 4,000 روپے کی امداد ملتی ہے۔ یہ رقم دو قسطوں میں خریف اور ربیع کے موسم کے دوران سیدھے بینک کھاتوں میں دی جاتی ہے ۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، اس اسکیم کے تحت اب تک کل 30,051 کروڑ روپے کی مالی امداد دی جا چکی ہے اور 1.14 کروڑ سے زیادہ کسانوں، برگادار اور بٹائی دار اس سے مستفید ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب کھیت مزدوروں کو بھی ایک سال میں دو اقساط میں 4000 روپے کی امداد دی جارہی ہے اور یہ رقم 8 مارچ سے تقریباً 28 لاکھ درخواست دہندگان کے بینک کھاتوں میں بھیجی جانے لگی ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ ’کرشک بندھو (موت کے معاملوں میں مدد)‘ اسکیم کے تحت 1.70 لاکھ سے زیادہ کسان خاندان مستفید ہوئے ہیں اور اس کے تحت 3,419 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ’بنگلہ شسیہ بیمہ یوجنا‘ کے تحت انشورنس پریمیم کی پوری لاگت برداشت کرتی ہے۔ اب تک 1.15 کروڑ کسانوں کو 4,005 کروڑ روپے سے زیادہ کا معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ، زرعی میکانائزیشن پروجیکٹ کے تحت، کسانوں میں 6.01 لاکھ سے زیادہ زرعی آلات تقسیم کیے گئے ہیں، جن پر 1,321 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے گئے ہیں۔ ریاست میں 2,525 زرعی آلات کرایہ پر لینے کے مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فصلوں کی کم قیمت پر فروخت کو روکنے کے لیے ریاستی حکومت کم از کم امدادی قیمت پر دھان خرید رہی ہے اور اس سال 70 لاکھ میٹرک ٹن دھان کی خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مستقبل میں بھی اسی طرح کسانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد