گیس کی قلت سے ماں کینٹین کو چلانا ہوا مشکل
شمالی 24 پرگنہ، 14 مارچ (ہ س)۔ ایل پی جی گیس کی موجودہ قلت کے درمیان، ضلع کے کئی علاقوں میں ''ماں کینٹین'' کا جاری رہنا میونسپلٹیوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اگر گیس کا بحران طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو بہت سے علاقے ما ں کینٹین کو بند
گیس کی قلت سے ماں کینٹین کو چلانا ہوا مشکل


شمالی 24 پرگنہ، 14 مارچ (ہ س)۔

ایل پی جی گیس کی موجودہ قلت کے درمیان، ضلع کے کئی علاقوں میں 'ماں کینٹین' کا جاری رہنا میونسپلٹیوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اگر گیس کا بحران طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو بہت سے علاقے ما ں کینٹین کو بند کرنے یا متبادل ایندھن کے طور پر لکڑی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔

مدھیہ گرام سے بونگاو¿ں، اشوک نگر سے گوبر ڈنگا تک، ہر جگہ یہی صورتحال ہے۔ اگر ماں کینٹین بند ہو جاتی ہے، تو مزدور اور کم آمدنی والے لوگ کو صرف پانچ روپے میں ملنے والے دوپہر کا کھانا،چاول،سبزی اور انڈے کا سالن سے محروم ہونے کا خوف ستانے لگا ہے۔ یہ اسکیم وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے غریبوں اور محنت کش طبقے کے لیے شروع کی تھی۔

اشوک نگر میونسپلٹی کے ما ںکینٹین میں روزانہ تقریباً 300 لوگ کھانا کھاتے ہیں۔ اوسطاً، دو گیس سلنڈر روزانہ تقریباً 500 لوگوں کے لیے کھانا پکانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، یا ہر ماہ تقریباً 60 سلنڈر۔ لیکن موجودہ اسٹاک صرف ہفتہ تک ہی رہے گا۔ چیئرمین پربودھ سرکار پریشان ہیں کہ اس کے بعد کھانا کیسے تیار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گیس ایجنسی نے واضح کر دیا ہے کہ فی الحال سلنڈر کی فراہمی ممکن نہیں ہے اور کینٹین کو کسی بھی دن بند کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande