انڈین اسکولز کنونشن 26 مارچ کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں منعقد ہوگا
علی گڑھ, 14 مارچ (ہ س)انڈین اسکولز کنونشن 26 مارچ کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں منعقد کیا جائے گا۔ اس پروگرام کو ملک بھر کے اسکولوں کی جانب سے حوصلہ افزا ردِعمل ملا ہے۔ اس کنونشن کا انعقاد سینٹر فار نمو اسٹڈیز (نمو مطالعہ مرکز) اور میڈیا س
انڈین اسکول کنویشن


علی گڑھ, 14 مارچ (ہ س)انڈین اسکولز کنونشن 26 مارچ کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں منعقد کیا جائے گا۔ اس پروگرام کو ملک بھر کے اسکولوں کی جانب سے حوصلہ افزا ردِعمل ملا ہے۔ اس کنونشن کا انعقاد سینٹر فار نمو اسٹڈیز (نمو مطالعہ مرکز) اور میڈیا سینٹر کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس ملک کے معروف صنعتکار اور انسان دوست شخصیت پدم بھوشن رتن ٹاٹا کے نام معنون کی گئی ہے تاکہ قوم کی تعمیر اور سماجی ترقی میں ان کی زندگی بھر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔

اس کانفرنس کا موضوع “قومی تعلیمی پالیسی کے تحت قومی ترقی کے لیے اسکولی تعلیم کو مضبوط بنانا” رکھا گیا ہے۔ پروگرام میں شرکت کے لیے اسکولوں سے کسی قسم کی فیس نہیں لی گئی ہے۔سینٹر فار نمو اسٹڈیز کے صدر پروفیسر جسیم محمد نے بتایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں سے 187 اسکولوں نے اس کنونشن اور اس سے منسلک پرنسپل، مینجمنٹ اور اسکول ایوارڈز 2026 میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، پنجاب، مغربی بنگال، مہاراشٹر، دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں کے اسکولوں نے نامزدگیاں بھیجی ہیں۔ ان رجسٹریشن میں سرکاری اسکول، نجی تعلیمی ادارے اور آزاد تعلیمی تنظیمیں شامل ہیں۔

پروفیسر جسیم محمد کے مطابق کنونشن کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے والے اسکولوں کو تعریفی اسناد اور یادگاری نشانات دے کر اعزاز سے نوازا جائے گا، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے پرنسپلز کو تعلیم کے فروغ اور قیادت میں ان کی خدمات کے اعتراف میں پرنسپل ایکسیلنس ایوارڈ دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اس وژن کو بھی اجاگر کیا جائے گا جس کا مقصد جامع تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، اختراع اور کلاس روم میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ہندوستان کے تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔

پروگرام کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر صحافی جاوید رحمٰانی نے بتایا کہ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 مارچ تھی اور اسکولوں سے موصول ہونے والی درخواستوں کا اس وقت سینٹر فار نمو اسٹڈیز کے جیوری پینل کے سینئر ماہرین تعلیم کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جیوری پینل ان اداروں اور پرنسپلز کی نشاندہی کے لیے نامزدگیوں کا جائزہ لے رہا ہے جنہوں نے تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔انڈین اسکولز کنونشن کی شریک رابطہ کار ڈاکٹر دیبا نے بتایا کہ ان ایوارڈز کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور دیہی و شہری علاقوں کے اسکولوں کو بھی خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے، تاکہ اس پروگرام کی اہمیت اور وقار مزید بڑھ سکے۔کنونشن کے رابطہ کار پروفیسر دیویا تنور اور ڈاکٹر دولت رام شرما نے مشترکہ طور پر کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد اساتذہ، اسکول سربراہان اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے خیالات کا تبادلہ کر سکیں، کامیابیوں کا اعتراف کیا جا سکے اور بھارت میں اسکولی تعلیم کے مستقبل پر سنجیدہ گفتگو ہو سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande