مودی حکومت پھر بے نقاب، سونم وانگچک کو بغیر ثبوت کے جیل میں رکھا گیا: اروند کیجریوال
نئی دہلی، 14مارچ(ہ س)۔دہلی میں مبینہ فرضی شراب گھوٹالہ کی سازش کے معاملے میں بے نقاب ہونے کے بعد اب معروف ماحولیاتی سائنس داں سونم وانگچک کی گرفتاری کے معاملے میں بھی مودی حکومت کی ایک اور حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ سونم وانگچک کیس میں عدالت میں مسلسل ہ
مودی حکومت پھر بے نقاب، سونم وانگچک کو بغیر ثبوت کے جیل میں رکھا گیا: اروند کیجریوال


نئی دہلی، 14مارچ(ہ س)۔دہلی میں مبینہ فرضی شراب گھوٹالہ کی سازش کے معاملے میں بے نقاب ہونے کے بعد اب معروف ماحولیاتی سائنس داں سونم وانگچک کی گرفتاری کے معاملے میں بھی مودی حکومت کی ایک اور حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ سونم وانگچک کیس میں عدالت میں مسلسل ہو رہی سبکی کے بعد مرکزی حکومت نے اپنی مزید بدنامی سے بچنے کے لیے قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت ان کی حراست کا حکم واپس لے لیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اس فیصلے پر عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت دیگر سینئر رہنماوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی رہنماوں نے اسے آمریت کی انتہا قرار دیتے ہوئے اس پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ ایک سائنس داں اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی، مگر انہیں بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں گزارے گئے ان کے مہینے نہ صرف ان کے لیے ذاتی نقصان تھے بلکہ یہ ملک کے لیے بھی نقصان تھا۔ اس کھلی آمریت کو عوام کے سامنے بے نقاب ہونا چاہیے اور اسے فوراً روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح دہلی میں بھی ایک فرضی شراب گھوٹالہ کی سازش رچ کر عام آدمی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو مہینوں جیل میں رکھا گیا تھا۔ادھر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج سے تقریباً چھ ماہ یعنی لگ بھگ 170 دن پہلے لداخ کے ایک نہایت مشہور سائنس داں کو مرکزی حکومت نے قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت اس الزام میں گرفتار کر لیا تھا کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ حالانکہ انہوں نے لداخ اور بھارتی فوج کے لیے بے شمار ایجادات کی ہیں اور غریب بچوں کو تعلیم دینے کے لیے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی اہلیہ سپریم کورٹ میں ہیبیئس کارپس کی درخواست کے ذریعے مسلسل قانونی لڑائی لڑ رہی تھیں۔ مہینوں سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور مرکزی حکومت مختلف بہانے بنا کر اس کیس میں صرف تاریخیں لیتی جا رہی تھی۔ جب سونم وانگچک کو اس طرح گرفتار کر کے حراست میں لیا گیا تھا تو کئی میڈیا اداروں نے جھوٹی خبریں چلائیں کہ انہیں نہ جانے کہاں کہاں سے غیر قانونی پیسہ مل رہا ہے اور وہ ملک کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ لیکن جب سپریم کورٹ میں ثبوت پیش کرنے کا وقت آیا تو حکومت کے پاس چند ویڈیوز کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ بعد میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ان ویڈیوز کو بھی عدالت میں غلط انداز میں پیش کر کے ایک جھوٹا مقدمہ تیار کیا جا رہا تھا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ ہیبیئس کارپس ایک نہایت اہم قانونی طریقہ ہے، جس کی جڑیں بارہویں صدی کے انگلینڈ کے میگنا کارٹا اور کچھ عدالتی اصولوں سے ملتی ہیں۔ اس کے تحت اگر حکومت یا اقتدار میں بیٹھے لوگ کسی شہری کو غلط طریقے سے جیل میں ڈال دیں تو اس کے خلاف یہ ایک قانونی تحفظ کا راستہ ہوتا ہے۔کسی بھی جمہوریت کے لیے یہ حق نہایت اہمیت رکھتا ہے اور ایسی درخواست پر چھ ماہ تک مقدمہ چلنا بھی اپنے آپ میں انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کے پاس سونم وانگچک کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت نہیں تھا اور آج نہیں تو کل سپریم کورٹ انہیں رہا کر ہی دیتی۔ اسی رسوائی اور شرمندگی سے بچنے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ کی اگلی سماعت سے پہلے ہی سونم وانگچک کے خلاف جاری حراستی حکم واپس لے لیا۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ کیا مرکزی حکومت اس طرح کسی کو بھی پکڑ کر جیل میں ڈال سکتی ہے؟کیا کسی بھی پُرامن تحریک یا جائز آئینی مطالبے کو دبانے کے لیے کسی کو بھی جیل میں ڈالا جا سکتا ہے؟ کیا مرکزی حکومت سونم وانگچک کے وہ 170 دن واپس کر سکتی ہے؟ کیا وہ میڈیا ادارے اور ٹی وی چینل، جنہوں نے ان کے خلاف زہر آلود مہم چلائی اور انہیں عوام کے سامنے ایک غدار کی طرح پیش کیا، اب ان سے معافی مانگیں گے؟ آج جمہوریت کے سامنے یہ بہت بڑے سوالات کھڑے ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے عام آدمی پارٹی کی طرف سے تمام اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سونم وانگچک کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی آواز بلند کریں۔ آج یہ سونم وانگچک کے ساتھ ہوا ہے، کل کو یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جو بھی شخص ملک کے عوام کی آواز اٹھانے کی کوشش کرے گا، حکومت اسے اسی طرح جھوٹے مقدمات میں جیل میں ڈال سکتی ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے عام آدمی پارٹی کے رہنماوں کو بھی مبینہ ایکسائز کیس کے جھوٹے معاملے میں مہینوں تک جیل میں رکھا گیا تھا۔عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مودی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔ اب یہ پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ سونم وانگچک کو جیل میں رکھنے کے لیے مرکزی حکومت کے پاس کوئی مضبوط ثبوت نہیں تھا۔ ان کے خلاف چلائی جا رہی جھوٹی پروپیگنڈا مہم سپریم کورٹ میں روزانہ بے نقاب ہو رہی تھی۔ اس بے گناہ شخص کے جیل میں گزارے گئے مہینوں کا ازالہ کون کرے گا، جس نے بغیر تھکے بھارت اور یہاں کے عوام کے لیے مسلسل کام کیا ہے؟

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande