پرانی دہلی کی ترقی کو نئی رفتا ملے گی، ایس آر ڈی سی کا نام بھی بدلا جائے گا: ریکھا گپتا
نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔وزیر اعلی اور شاہجہاں آباد ری ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایس آر ڈی سی ) کی صدر ریکھا گپتا کی صدارت میں جمعہ کو38ویں بورڈ میٹنگ ہوئی ۔ میٹنگ میں پرانی دہلی کی مجموعی ترقی، ورثے کے تحفظ اور دیگر معاملات سے متعلق کئی اہم امور پر تفصیل
CM-NAME-CHANGED-SRDC


نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔وزیر اعلی اور شاہجہاں آباد ری ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایس آر ڈی سی ) کی صدر ریکھا گپتا کی صدارت میں جمعہ کو38ویں بورڈ میٹنگ ہوئی ۔ میٹنگ میں پرانی دہلی کی مجموعی ترقی، ورثے کے تحفظ اور دیگر معاملات سے متعلق کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پچھلی حکومت کے دور میں ایس آر ڈی سی کے کام کاج پر بھی غور کیا گیا اور مالی بے ضابطگیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔

دہلی کے کابینہ وزیر آشیش سود اور تمام متعلقہ محکموں کے سینئر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔ اجلاس میں بورڈ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ تینوں مجوزہ ناموں کو ترجیح دے کر نئے نام کو حتمی شکل دی جائے گی۔ میٹنگ میں لال جین مندر سے فتح پوری مسجد تک چاندنی چوک کے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ادارے کی جامع تنظیم نو اور بحالی کی جائے۔ حکومت نہ صرف بورڈ کا نام بدلے گی بلکہ اس کے ذریعہ پرانی دہلی اور شاہجہاں آباد علاقوں کی حقیقی تعمیر نو کو بھی رفتار دے گی ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی حکومت نے پرانی دہلی کی پرانی شان کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے پرانی دہلی کی 28 سڑکوں پر تقریباً 160 کروڑ روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر اور بہتری، علاقے کی خوبصورتی، صفائی ستھرائی کو مضبوط بنانا، عوامی بیت الخلاءکی بہتر دیکھ بھال اور ایک جامع صفائی مہم شامل ہیں۔ پرانی دہلی کے تاریخی کردار کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے جدید سہولیات فراہم کرتے ہوئے پورے علاقے میں بتدریج زیر زمین بجلی کی تاریں لگانے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹاؤن ہال کو ثقافتی اور تاریخی نقطہ نظر سے مزید پرکشش بناتے ہوئے تاریخی ورثے کی ایک اہم یادگار کے طور پر بھی ترقی دی جائے گی۔ پرانی دہلی ملک کی راجدھانی کا دل ہے اور حکومت کا مقصد اس کے تاریخی ورثے، شناخت اور ثقافتی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید سہولیات کے ساتھ تیار کرنا ہے تاکہ شاہجہان آباد کا علاقہ ملک اور دنیا کے سامنے ایک خوبصورت اور متحرک ورثہ علاقہ کے طور پر ابھر سکے۔

دہلی کے شہری ترقی کے وزیر آشیش سود نے کہا کہ اس جائزے سے کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ پچھلی حکومت نے پروجیکٹوں کو صرف دکھاوے کے لئے اور بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے چلائے۔ پرانی دہلی، جسے کسی زمانے میں چہار دیواری والاشہر کے نام سے جانا جاتا تھا اور دہلی کی اصل آبادی کا گھر ہے ، کو پچھلی حکومت کے دور میں ترقی اور تحفظ کے معاملے میں وہ سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی جس کی یہ مستحق تھی۔

سود نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں بورڈ دہلی کے ثقافتی ورثے اور پرانی آبادی علاقوں کے تحفظ کے لیے پابند عہد ہے۔ اس کا مقصد خطے کے تاریخی ورثے، مقامی ماحول، جغرافیائی حالات اور آبادیاتی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور منصوبہ بند ترقیاتی حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں بورڈ کی کارگردگی انتہائی کمزور تھی، ترقی کے نام پر وسائل کی بربادی کی گئی ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande