
ممبئی ، 12 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کی وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پنکجا منڈے نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی اور نہایت حساس مسئلہ ہے جو صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت نے ایک وسیع اور جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔
قانون ساز کونسل میں اس موضوع پر رکن سنیل شندے کی جانب سے اٹھائی گئی آدھے گھنٹے کی بحث کے جواب میں پنکجا منڈے نے کہا کہ ریاست نے 2021 میں موسمیاتی ایکشن پلان کی تیاری کا عمل شروع کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں 350 سے زیادہ ماہرین اور سرکاری افسران شامل ہیں۔ اس منصوبے کو مرکزی حکومت کی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2015 سے 2025 کے درمیان درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور 2025 کو سب سے زیادہ گرم سال قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں شدید گرمی اور انتہائی گرم دنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پنکجا منڈے نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھارت کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی پانچ ریاستوں میں مہاراشٹر بھی شامل ہے۔ چونکہ ریاست میں صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی تیزی سے ہو رہی ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ موسمیاتی اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ڈی کاربونائزیشن پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بعض امرت شہروں میں تجرباتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں اور ان کے لیے علیحدہ موسمیاتی ایکشن پلان تیار کیے گئے ہیں۔
وزیر ماحولیات کے مطابق آئندہ مرحلے میں ریاست کے ہر ضلع کے لیے سائنسی تحقیق پر مبنی الگ منصوبہ تیار کیا جائے گا جس میں زرعی نظام، دریاؤں کی حالت، بارش کا تناسب، مٹی کی نوعیت اور آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہے، لیکن ریاستی حکومت ترقی اور ماحول کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اس کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے