امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت
تہران/تل ابیب/واشنگٹن، یکم مارچ (ہ س)۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران کے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی نے اتوار کی صبح کہا کہ اس ح
تہران میں خامنہ ای کی تصویر کے ساتھ مظاہرہ کرتے لوگ۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


تہران/تل ابیب/واشنگٹن، یکم مارچ (ہ س)۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران کے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی نے اتوار کی صبح کہا کہ اس حملے میں خامنہ ای کی شہادت ہو گئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ایران میں امن قائم نہیں ہو جاتا، تب تک حملہ جاری رہے گا۔

امریکی چینل سی این این، دی ٹائمز آف اسرائیل، ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹس کے مطابق، ایران کے کئی میڈیا گروپوں نے بھی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سب سے بڑا اعتراف سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی کا ہے۔ آئی آر آئی بی نے اتوار کی صبح بتایا، ’’ایران کے سپریم لیڈر شہید ہو گئے ہیں۔‘‘

خامنہ ای کی موت کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔ تل ابیب میں ایران کے حملے میں ایک خاتون کی موت ہو گئی۔ اسرائیل نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی آپریشن کے ابتدائی حملوں میں نشانہ بنائے گئے 30 اہم رہنماوں میں سے کئی مارے گئے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ فوجی کارروائی تب تک چلے گی جب تک ایران کے لوگ آزاد نہیں ہو جاتے۔ اس دوران اسرائیل کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔

سب سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتہ کی رات ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک خامنہ ایکی موت ہو گئی ہے۔‘‘ ٹرمپ کے اس بیان سے کچھ گھنٹے قبل ہی اسرائیلی اور امریکی حکام نے کہا تھا کہ حملے میں خامنہ ای مارے گئے ہیں۔ اسرائیل کے چینل 12 نے بتایا کہ تہران میں کمپاونڈ سے خامنہ ای کی لاش ملنے کے بعد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس کی تصویر دکھائی گئی۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ حملے میں خامنہ ای کی بیٹی، پوتا، بہو اور داماد بھی مارے گئے ہیں۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے حملے میں مارے گئے ایران کے فوجی افسران کی شناخت ظاہر کی ہے۔ ان میں اعلیٰ ترین فوجی افسر علی شمخانی اور آئی آر جی سی کے کمانڈر محمد پاکپور اہم ہیں۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ حملے میں ایران کے ملٹری ایمرجنسی ہیڈکوارٹر میں انٹیلی جنس کے چیف صلاح اسدی اور اہم فوجی افسر محمد شیرازی بھی مارے گئے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس دوران اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے سے آگاہ کیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے اپنے اندرونی اور قانونی حق کا استعمال کر رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں جنوبی ایران میں کم از کم 85 طالبات ہلاک ہو گئیں۔ یہ سب ہرمزگان صوبے کے میناب میں ایک اسکول میں پڑھتی تھیں۔ میناب کے صوبائی گورنر محمد رادمہر نے تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم 53 طالبات ملبے میں دبی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی آرمڈ فورسز نے بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کے قبضے والے علاقوں اور پورے علاقے میں امریکی ملٹری بیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ اسکولی طالبات کے مارے جانے پر عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ ایرانی آرمڈ فورسز ان ہلاکتوں کا بدلہ ضرور لیں گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande