
تہران،یکم مارچ(ہ س)۔مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا ہے، جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے چند گھنٹوں کی تردید کے بعد اتوار کی صبح صادق میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ رہنما علی خامنہ ای کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی اور بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ یہ صورتحال خطے میں جاری تناو کو مزید شدت دیتی نظر آ رہی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ کر رہی ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تین بیک وقت ہونے والی ملاقاتوں کی نشاندہی کی اور خامنہ ای کے مقام کی درست معلومات اکٹھی کیں۔انہوں نے اس لمحے کو اتنا نایاب قرار دیا کہ امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں نے دن کی روشنی میں حملہ کیا۔مزید بتایا گیا کہ اسرائیلی طیاروں نے خامنہ ای کے کمپلیکس پر 30 بم گرائے، جس سے وہ مکمل طور پر جل گیا اور تباہ ہو گیا، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔اس کے علاوہ اسرائیلی اور امریکی فوجی خفیہ اداروں نے طویل عرصے تک نگرانی کی اور اس نادر موقع کا انتظار کیا، جب ایران کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی رہنما ایک ساتھ موجود ہوں، تاکہ انہیں ایک ہی بار میں ہلاک کیا جا سکے۔حکام نے کہا: ''منتظر دن ہفتے کی صبح آیا۔اسرائیل نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے دیگر اعلیٰ سیاسی اور فوجی رہنماوں کو بھی ہلاک کیا، جن میں علی شمخانی (خامنہ ای کے سینئر سکیورٹی مشیر)، محمد باکپور (پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر) اور وزیرِ دفاع امیر ناصر زادہ شامل ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مہم سے قبل اسرائیلی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کی واشنگٹن آمد و رفت معمول تھی تاکہ حملے کی منصوبہ بندی کی جا سکے، جن میں ان کے اعلیٰ کمانڈر، فضائیہ کے سربراہ، فوجی خفیہ ادارے کے سربراہ اور موساد کے ڈائریکٹر شامل تھے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دسمبر میں فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے نجی کلب مارا لاگو میں ملاقات کی، جہاں انہوں نے علانیہ اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ایران اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھے تو فوجی کارروائی جواز رکھتی ہے اور پھر وہ فروری کے آغاز میں وائٹ ہاوس میں دوبارہ ملاقات کے لیے گئے۔اسی دوران اسرائیلی حکام نے کہا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے ایران میں اہداف کی معلومات اکٹھی کر رہے تھے اور اسے امریکہ کے ساتھ شیئر کر رہے تھے۔بعد ازاں ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ دو دہائیوں کی سب سے بڑی امریکی فوجی طاقت کی تعیناتی کا حکم دیا، جس میں دو ایئر کرافٹ کیریئر، تقریباً 12 ڈسٹرائرز اور جدید لڑاکا طیاروں کا ایک گروپ ایران کے اطراف کے سمندر اور اڈوں میں بھیجا گیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan