
اسلام آباد،یکم مارچ(ہ س)۔ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملے کے خلاف پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں مذہبی جماعت اور طلبا تنظیم کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ایران پر حملے کے خلاف امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کا شدید احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان سخت جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شرکا نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا، کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر مذہبی جماعت اور طلبا تنظیم کے ارکان کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں ایران پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔شرکا کا کہنا تھا کہ ایران پر جارحیت دراصل امتِ مسلمہ پر حملہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، حکومتِ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو امریکا کے ساتھ تعلقات پر فوری نظرِ ثانی کرنی چاہیے اور ایران کے ساتھ اعلانیہ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے۔ایر ان پر امریکہ اور اسرائیلی حملے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، شہر کے اہم علاقوں نمائش چورنگی، عباس ٹاون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور سڑکوں پر نعرے بازی کی گئی۔بعد ازاں مظاہرین امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھ گئے جہاں پہلے ہی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اگر مسلم ممالک متحد ہو جائیں تو کسی بھی بیرونی طاقت کو خطے میں مداخلت کی جرات نہیں ہوگی۔ریلی کے شرکا نے امریکا مردہ باد ، اسرائیل مردہ باد اور امریکہ کا یار غدار جیسے نعرے لگائے، مظاہرے کے اختتام پر مظاہرین نے اسرائیل اور امریکی پرچم زمین پر رکھ کر ان پر کھڑے ہوکر احتجاج ریکارڈ کروایا جبکہ بعض افراد نے پیٹرول چھڑک کر پرچموں کو آگ بھی لگائی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی نفری بھی تعینات رہی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔مقررین نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر ایران کے مو¿قف کی حمایت کرے اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ احتجاج پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، شرکا نے اعلان کیا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائیاں نہ رکیں تو آئندہ بھی احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan