
رانچی، یکم مارچ (ہ س) اتوار کو علی الصبح جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع کے گھنے سارنڈا جنگل میں سیکورٹی فورسز اور ممنوعہ ماو¿نواز تنظیم سی پی آئی (ماو¿ نواز) کے درمیان تصادم کے دوران کوبرا بٹالین کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت تین سپاہی ایک دیسی ساختہ بم دھماکے میں زخمی ہو گئے۔ تمام زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے رانچی لے جایا گیا اوراسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔
اطلاعات کے مطابق، چھوٹانا گرہ اور جرائی کیلا پولیس اسٹیشن کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے چلائے گئے کومبنگ آپریشن کے دوران اتوار کی صبح تقریباً 5 بجے نکسلیوں کے ساتھ شدید انکاو¿نٹر شروع ہوا۔ انکاو¿نٹر کے دوران، نکسلیوں کی طرف سے نصب ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) مارنگ پونگا علاقے میں پھٹ گیا، جس سے کوبرا بٹالین کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ اجے ملک، ہیڈ کانسٹیبل وکرم یادو، اور ایک اور سپاہی سنجیو زخمی ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد تین زخمی فوجیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے رانچی لے جایا گیا۔ انہیں شہر کے راج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق تینوں فوجیوں کی حالت مستحکم ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق علاقے میں سیکورٹی فورسز اور نکسلیوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو علاقے میں ایک اہم نکسلائیٹ لیڈر کی موجودگی کا شبہ ہے۔ اس کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ بھی توقع ہے کہ انکاو¿نٹر میں نکسلیوں کو جانی نقصان ہوا ہو گا۔
انسپکٹر جنرل (آپریشنز) مائیکل راج ایس نے تصدیق کی کہ تین زخمی فوجیوں کو رانچی کے راج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ سارنڈا علاقے میں نکسل مخالف آپریشن فی الحال جاری ہے، اور سیکورٹی فورسز انتہائی چوکسی کے ساتھ آپریشن کر رہی ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی