ایران کا جوابی حملہ ،خلیجی ممالک میں امریکی ٹھکانوں اور اسرائیل پر میزائل داغے
ایران کا جوابی حملہ ،خلیجی ممالک میں امریکی ٹھکانوں اور اسرائیل پر میزائل داغے تہران/دوحہ/تل ابیب، 28 فروری (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح امریکہ اور
ایران کا جوابی حملہ ،خلیجی ممالک میں امریکی ٹھکانوں اور اسرائیل پر میزائل داغے


ایران کا جوابی حملہ ،خلیجی ممالک میں امریکی ٹھکانوں اور اسرائیل پر میزائل داغے

تہران/دوحہ/تل ابیب، 28 فروری (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ کئے گئے حملوں کے جواب میں خلیجی علاقے میں واقع امریکی فوجی ٹھکانوں اور اسرائیل میں درجنوں بیلسٹک میزائل داغے۔

ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی ) سے وابستہ ایک میڈیا ادارے کے مطابق اسرائیل کی طرف ”درجنوں“ میزائل داغے گئے۔ خطے کے کئی ممالک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور میزائل شکن نظام کو فعال کر دیا گیا۔ آسمان میں دھماکوں اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی نقل و حرکت نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کر دیا۔

ایران نے جن امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، ان میں قطر میں العدید ایئر بیس، کویت میں السلیم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات میں الدفرہ ایئر بیس اور بحرین میں امریکی نیول بیس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ،اردن میں موفق السلطی ایئر بیس اور شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ،یہ کارروائی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ تاہم مختلف ممالک کی جانب سے سرکاری طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ حملوں کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ فضائی حدود کی نگرانی تیز کر دی گئی ہے، اور متعدد ممالک نے احتیاط کے طور پر شہری ہوا بازی کے آپریشنز پر عارضی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ فوجی تنازع مزید بڑھتا ہے ،تو اس سے پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام، عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سفارت کاری متاثر ہو سکتی ہے۔

ادھر سعودی عرب نے بحرین، قطر، کویت، اردن اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایرانی جارحیت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں سعودی عرب نے کہا کہ وہ ”برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت“ کا اظہار کرتا ہے اور ان کے کسی بھی اقدام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

سعودی عرب نے یہ بھی خبردار کیا کہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری نے تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے اور کشیدگی میں کمی لانے کی اپیل بھی کی۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر افسوس کا اظہار کیا۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تشدد کی وجہ سے جاری مذاکرات دوبارہ کمزور ہو گئے ہیں۔ یہ صورت حال نہ تو امریکہ کے لیے اچھی ہے اور نہ ہی عالمی امن کے لیے۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس تنازعہ کو نہ بڑھائے کیونکہ یہ اس کی جنگ نہیں ہے۔

اسرائیل نے ایران پر حملے کا نام’رورنگ لائن ‘رکھا

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایران کو نشانہ بنانے والے آپریشن کا نام ”رورنگ لائن“ رکھا ہے۔ یہ نام گزشتہ جون میں آپریشن ”رائزنگ لائین“ کی روایت کو آگے بڑھاتا ہے، جس میں اسرائیل نے اہم ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور اس کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا۔”شیر“ نام کا استعمال ایک پرانی روایت کی علامت ہے۔

ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے کہا کہ اس مشن کی منصوبہ بندی کئی مہینوں سے امریکہ کے ساتھ مل کر کی گئی تھی اور لانچ کی تاریخ چند ہفتے قبل طے کی گئی تھی۔ دریں اثنا، امریکی محکمہ دفاع نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس مشن کو ”ایپک فیوری“ کا نام دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande