
واشنگٹن،27فروری(ہ س)۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعرات کو امریکی سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ امریکہ میں مقیم تقریباً 6,000 شامیوں کا ملک بدری سے تحفظ ختم کرنے کی کوششوں میں مداخلت کرے۔محکمہ انصاف نے ایک ہنگامی درخواست میں سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ ایک جج کا نومبر کا فیصلہ منسوخ کر دے جس کے تحت انتظامیہ کا شامیوں کی عارضی محفوظ حیثیت یا ٹی پی ایس ختم کرنے کا اقدام روک دیا گیا تھا جبکہ اس اقدام کو چیلنج کرنے والی قانونی چارہ جوئی اس دوران جاری رہے۔
یہ تیسرا موقع ہے کہ انتظامیہ نے تارکینِ وطن کے لیے یہ تحفظ ختم کرنے کی کوششوں سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت نے گذشتہ دونوں مواقع پر انتظامیہ کا ساتھ دیا جس میں وینزویلا کے لاکھوں لوگوں کے لیے ٹی پی ایس کی منسوخی بھی شامل تھی۔ٹی پی ایس ایک انسانی حیثیت ہے جو امریکی قانون کے تحت جنگ، قدرتی یا دیگر نوعیت کی آفات سے مت?ثرہ ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو دی جاتی ہے۔ اس حیثیت کے تحت لوگوں کو ملک بدری سے تحفظ اور امریکہ میں کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
ٹرمپ کے محکمہ داخلی سلامتی نے شام سمیت 12 ممالک کے لیے ٹی پی ایس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح کے مقدمات عدالتی فیصلوں کی وجہ بنے ہیں جو فی الحال ایتھوپیا، جنوبی سوڈان، ہیٹی، شام اور میانمار سمیت دیگر ممالک کے لوگوں کے لیے ٹی پی ایس کا خاتمہ روک رہے ہیں۔سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے دوران پہلی بار 2012 میں ٹی پی ایس میں شامیوں کو بھی شامل کر دیا گیا تھا جب ان کا ملک شدید خانہ جنگی کا شکار ہو گیا تھا۔ریپبلکن صدر کی مقرر کردہ سکریٹری محکمہ داخلی سلامتی کرسٹی نوم نے ستمبر میں شامیوں کے لیے ٹی پی ایس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ وہاں کی صورتِ حال اب ایک جاری مسلح تصادم کے معیار پر پورا نہیں اترتی جو شامی شہریوں کی واپسی کی ذاتی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہو۔
نومبر میں مین ہٹن میں امریکی جج کیتھرین پوک فیلا نے ٹرمپ انتظامیہ کو شامیوں کے لیے ٹی پی ایس ختم کرنے سے روک دیا۔ نیویارک میں قائم دوسری امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے 17 فروری کو یہ حکم روکنے سے انکار کر دیا۔محکمہ انصاف نے ایک فائلنگ میں کہا ہے کہ وینزویلا کے لیے ٹی پی ایس سے متعلق مقدمات میں نچلی عدالتیں سپریم کورٹ کے پیشگی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے اقدامات سے زیریں عداتوں کی مستقل روگردانی کی بنا پر اس نے تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ اس تنازعہ میں دلائل لے اور سنے۔انتظامیہ نے کہا ہے کہ ٹی پی ایس پروگرام کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے اور کئی تارکینِ وطن تحفظ کی اہلیت پر مزید پورا نہیں اترتے۔ ڈیموکریٹس اور مہاجرین کے حامیوں نے کہا ہے کہ ٹی پی ایس کے تحت درج کردہ افراد خطرناک حالات میں واپس جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں اور یہ کہ امریکی آجر ان کی محنت پر انحصار کرتے ہیں۔پالیسی کو چیلنج کرنے والے شامیوں کے ایک گروپ سے عدالت نے درخواست کی کہ وہ پانچ مارچ تک انتظامیہ کی درخواست پر جواب دیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan