
کٹھمنڈو، 27 فروری (ہ س)۔ نیپال پولیس نے گزشتہ سال 8 اور 9 ستمبر کو نیپال میں ہونے والی ’جین -زی تحریک‘ پر بی بی سی ورلڈ سروس کے ذریعہ نشر کی جانے والی دستاویزی فلم پر سخت اعتراض کیا ہے اور بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
بی بی سی کی یہ 41 منٹ کی دستاویزی فلم، دو دن کے واقعات کی فوٹیج کے ساتھ، نیپالی پولیس پر نوجوانوں کے خلاف دشمنی سے کام لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اس وقت کے انسپکٹر جنرل آف پولیس، چندر بہادر کھاپونگ کو بنیادی طور پر فائرنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ 8 ستمبر 2025 کو ہونے والے مظاہروں میں 19نوجوان ہلاک ہو گئے تھے۔ دستاویزی فلم میں مظاہرین کے پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کرنے اور فائرنگ سے قبل پولیس پر پتھراو¿ کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزی فلم اسے بدنام کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
مظاہرین پولیس کی بیریکیڈ توڑ کر پارلیمنٹ کی عمارت کی طرف بڑھے تھے۔ دیواروں کو توڑنے اور گیٹ کو آگ لگانے کے بعد، پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جیسا کہ دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے۔ لیکن مظاہرین پیچھے نہیں ہٹے ، جس کے بعد گولیاں چلائی گئیں۔ آگے کی قطار میں نہ ہونے کے باوجود ، کچھ دیگر افراد کو بھی گولیاں لگیں۔
نیپال پولیس کی ذریعہ ایک بیان جاری کر کے دستاویزی فلم کے عنوان”دشمن کی طرح گولی مار ی گئی“ جیسے الفاظ استعمال کرنے پر اپنا اعتراض ظاہر کیا ہے ۔ پولیس کا خیال ہے کہ بی بی سی کی جانب سے ایسی سرخی کا استعمال پولیس کو بدنام کرنے اور سنسنی پھیلانے کی کوشش ہے۔
دستاویزی فلم میں اس وقت کے انسپکٹر جنرل آف پولیس چندر بہادر کھاپونگ کو بنیادی طور پر اس دن گولی چلنے کے واقعہ کے لئے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پولیس کی ایک اندرونی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، بی بی سی کا دعویٰ ہے کہ پولیس چیف کھاپونگ کے حکم پر گولی چلائی گئی ۔ پولیس لاگ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے ”پیٹر 1“ کال سائن سے گولی چلانے کا حکم آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ”پیٹر 1“ کال سائن اس وقت کے آئی جی پی کا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، فیلڈ میں موجود پولیس افسران کی طرف سے بار بار احکامات مانگے جانے پر کھاپونگ نے اپنے کال سائن کے ذریعے کہاتھا،”کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ضروری طاقت کا استعمال کریں۔“
اس بنیاد پر، بی بی سی نے اس وقت کے آئی جی پی کھاپونگ کو اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم دستاویزی فلم میں اس واقعے میں سیاسی قیادت کے کردار پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
مرکزی پولیس کے ترجمان ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اوینارائن کافلے نے کہا کہ رپورٹ میں درج پولیس کال سائن کی بات چیت سرکاری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”جب دستاویزی فلم میں خود کہا گیا ہے کہ بات چیت مختلف فوٹیج کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھی، تو ان کی صداقت پر سوال اٹھتا ہے۔ پولیس سے متعلق معاملات کے بارے میں براہ راست ہم سے پوچھا جا سکتا ہے، اس طرح کی تالیف کی ضرورت نہیں ہے۔“
پولیس کے ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور پریس کونسل پہلے ہی اس معاملے کا نوٹس لے چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیپال پولیس کو بدنام کرنے، ان کی شبیہ کو داغدار کرنے اور پولیس کے موقف کو شرمناک انداز میں پیش کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی پر غور کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد