
کیو، 24 فروری (ہ س)۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ امریکہ ان کے ساتھ رہے۔ زیلنسکی نے روس کے یوکرین پر حملے کی چوتھی برسی سے ایک دن قبل کیف کے صدارتی محل میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹرمپ منگل کو اپنی ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ تقریر میں روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کا ساتھ دینے کا اعلان کریں گے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، زیلنسکی نے کہا، ’’ٹرمپ کو یوکرین کے ساتھ رہنا ہوگا۔ یوکرین روس کے صدر پوتن کے خلاف لڑ رہا ہے۔ پوتن ایک جنگ ہیں۔ امریکہ بہت طاقتور ہے۔ وہ سچ میں پوتن کو روک سکتا ہے۔ ہم لڑائی سے تھک چکے ہیں۔ پوتن کے مطالبات کو ماننا کوئی آپشن (متبادل) نہیں ہے۔ ہم پوتن کو وہ سب نہیں دے سکتے جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘
جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے ساتھ یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی امن بات چیت میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ اگر مستقبل میں روس نے یوکرین پر پھر حملہ کیا تو یوکرین کے حلیف کیسا ردعمل دیں گے، ابھی تک یہ صاف نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے صاف جواب چاہیے۔ یوکرین موجودہ فرنٹ لائن (اگلی صفوں) پر جنگ روکنے کو تیار ہے۔ لیکن یوکرینی فوج اپنے کنٹرول والے مشرقی ڈونیٹسک خطے کے ان علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین اس علاقے کا تقریباً 20 فیصد حصہ چھوڑ دے۔ روس چاہتا ہے کہ ہم اپنی فوج واپس بلا لیں۔ ہم بچے نہیں ہیں۔ ہم اتنے سالوں سے اس جنگ سے گزرے ہیں۔ ہم انہیں ملک پلیٹ میں سجا کر پیش نہیں کر سکتے۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن