ایران -امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران اسرائیل مشکل دنوں سے گزر رہا: نیتن یاہو
تل ابیب،24فروری(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے نیا جوہری معاہدہ قبول نہ کرنے کی صورت میں حملوں کی دھمکی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں اسرائیل پیچیدہ
ایران -امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران اسرائیل مشکل دنوں سے گزر رہا: نیتن یاہو


تل ابیب،24فروری(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے نیا جوہری معاہدہ قبول نہ کرنے کی صورت میں حملوں کی دھمکی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں اسرائیل پیچیدہ اور مشکل ایام سے گزر رہا ہے۔ پارلیمان کے سامنے ایک مختصر خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ ہم انتہائی پیچیدہ اور مشکل دنوں میں جی رہے ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھیں کھلی رکھی ہوئی ہیں اور ہم کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے ایرانی قیادت کو دوبارہ خبردار کرتے ہوئے کہا میں نے آیت اللہ کی حکومت کو بتا دیا ہے کہ اگر اس نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی اور ریاستِ اسرائیل پر حملہ کیا تو ہم اتنی طاقت سے جواب دیں گے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔دوسری طرف ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ حملوں کے اشارے کے بعد ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک پر حملہ ہوا تو کشیدگی کا دائرہ وسیع ہونے کا خطرہ ہے۔جنیوا میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس سے خطاب کے دوران غریب آبادی نے کہا کہ ہم امن اور انصاف کے پابند تمام ملکوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مزید کشیدگی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ کسی بھی نئی جارحیت کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے اور اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی جو اس طرح کے اقدامات کی پہل کریں گے یا ان کی حمایت کریں گے۔ایران نے اپنی انتباہی مہم جاری رکھتے ہوئے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کی تیاری کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے پیر کے روز ’دافوس‘ ملٹری یونیورسٹی کے طلبہ کی گریجویشن تقریب کے دوران کہا کہ ان کا ملک آسان لقمہ نہیں ہے اور دشمن غلط فہمی میں ہے اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم کمزور پوزیشن میں ہیں اور وہ طاقتور پوزیشن میں ہے۔یہ انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی مسئلے پر مذاکرات جاری رہنے کے باوجود ٹرمپ کی جانب سے ایران پر محدود حملوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز (جیرالڈ فورڈ) کی خطے میں آمد کے ساتھ صورت حال مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔ یہ بحری جہاز امریکی صدر کے کسی بھی فیصلے کی تیاری کے سلسلے میں پہلے سے موجود بحری جہاز ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے پہنچ رہا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande