
تل ابیب،24فروری(ہ س)۔ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملہ اب قریب آ چکا ہے۔یہ بات منگل کے روز اسرائیلی اخبار ’یدیعوت آحرونوت‘ نے بتائی۔اخبار نے حالیہ دنوں میں امریکی صدر سے گفتگو کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بھی بتایا کہ ھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دینے کی طرف مائل ہیں۔اسی تناظر میں اسرائیلی چینل 12 کے ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ تل ابیب نے اضافی محاذ کھلنے کے احتمال کے پیش نظر اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ تل ابیب پیچیدہ دنوں سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر امریکہ ایران کے ایٹمی عزائم کے بارے میں اس کے ساتھ کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکا تو یہ ایران کے لیے ایک انتہائی برا دن ہو گا۔امریکی صدر نے ان رپورٹس کی صحت سے انکار کیا جن میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین کی جانب سے ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن کے خطرات سے متعلق انتباہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تصادم کی صورت میں امریکہ تہران کو آسانی سے شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک کے خلاف کسی بھی فوجی کشیدگی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران کسی بھی سازش کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہوگا اور اپنا دفاع کرے گا۔اسی دوران یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک لا محدود جنگ کے دائرہ کار سے خبردار کیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کا شہر جنیوا آئندہ جمعرات کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کی میزبانی کرے گا۔ فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس دور کو خطرناک ترین قرار دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران ایک نئی تجویز پیش کرنے پر کام کر رہا ہے جسے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کو پیش کیا جائے گا، لیکن مذاکرات سے باخبر سفارتی ذرائع نے اخبار اسرائیل ہیوم کے سامنے اس بات پر شک کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی تجویز میں سابقہ پیشکشوں کے مقابلے میں کوئی بنیادی تبدیلی شامل ہو گی، اور انہوں نے آئندہ دور میں کسی بھی بڑی پیش رفت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan