عراق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اپنی سرحدی حدود کے نقشے واپس لے: خلیج تعاون کونسل کا مطالبہ
قاہرہ،24فروری(ہ س)۔خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی ان حدود اور نقشوں کی فہرست واپس لے جس میں عراقی سمندری حدود کے حوالے سے دعوے کیے گئے ہیں، کیونکہ ان حدود اور نقشوں میں ف
عراق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اپنی سرحدی حدود کے نقشے واپس لے: خلیج تعاون کونسل کا مطالبہ


قاہرہ،24فروری(ہ س)۔خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی ان حدود اور نقشوں کی فہرست واپس لے جس میں عراقی سمندری حدود کے حوالے سے دعوے کیے گئے ہیں، کیونکہ ان حدود اور نقشوں میں فشت القید اور فشت العیج سمیت کویت کی سمندری حدود اور آبی بلندیوں پر اس کی خود مختاری کو متاثر کیا گیا ہے۔سیکرٹری جنرل جی سی سی نے بین الاقوامی قانون کے قواعد و ضوابط اور 1982 کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ان قوانین کے تحت دو ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں، معاہدوں اور دوطرفہ یادداشتوں پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں جاسم البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے 46 ویں سیشن کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کویت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے حوالے سے اپنے پختہ موقف اور سابقہ فیصلوں کا اعادہ کیا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریاستِ کویت کی تمام زمینوں، جزائر، آبی بلندیوں اور مکمل سمندری حدود پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوطرفہ اور بین الاقوامی وعدوں اور اقوامِ متحدہ کی تمام متعلقہ قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔ سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ خلیج تعاون کونسل اور جمہوریہ عراق کے درمیان باہمی احترام اور اچھی ہمسائیگی پر مبنی گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے دونوں فریقوں کے درمیان تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔جاسم نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ عراق اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی حدود کی فہرست اور نقشے کو واپس لینے کی پہل کرے گا تاکہ باہمی اعتماد کو فروغ ملے، تعلقات کا استحکام برقرار رہے اور متعلقہ قانونی و بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ہو سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande