سپریم کورٹ کو آئین اور قوانین کی تشریح کا حق نہیں: ایف سی سی پی
اسلام آباد، 23 فروری (ہ س)۔ پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی پی) نے فیصلہ دیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک کی سپریم کورٹ کو آئین اور قوانین کی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے یہ اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ 27ویں آئینی
عدالت


اسلام آباد، 23 فروری (ہ س)۔ پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی پی) نے فیصلہ دیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک کی سپریم کورٹ کو آئین اور قوانین کی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے یہ اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل سپریم کورٹ کو آئین اور قانونی قواعد کی تشریح کا اختیار حاصل تھا۔ اب، یہ اختیار مکمل طور پر وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔

دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ قوانین کے آئینی جواز کا جائزہ لے سکتی ہے اور تشریح سے متعلق کسی بھی کیس کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ سیلز ٹیکس کیس کے تناظر میں آیا ہے۔ جسٹس فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کے قوانین کی تشریح اور نظرثانی کے اختیارات کو مو¿ثر طریقے سے ختم کر دیا۔ اس فیصلے کو پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 11 فروری کو وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے روک دیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں نومبر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی تھی، صدر آصف علی زرداری نے 13 نومبر 2025 کو بل پر دستخط کیے تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande