
تہران،23فروری(ہ س)۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیوز نیٹ ورک ” سی بی ایس “ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی حل اب بھی میز پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا اگر واشنگٹن اپنے خدشات کو دور کرنا چاہتا ہے تو سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ عراقچی نے مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کے تحت جمعرات کو جنیوا میں امریکی مندوب سٹیو وٹکوف سے اپنی ممکنہ ملاقات کا بھی بتایا۔ عراقچی نے کہا امریکی فوجی طاقت کا جمع ہونا ایران کو خوفزدہ نہیں کرے گا اور اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے ساتھ ہی اس بات کا اعادہ کیا کہ تہران بارہا اپنے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق اور این پی ٹی معاہدے میں درج حقوق پر قائم رہتے ہوئے ایٹمی معاہدے کی ایک تجویز پر کام کر رہا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی حملے کی صورت میں ایران کے اپنے دفاع کے حق پر زور دیا اور خطے میں واشنگٹن کے مفادات کو نشانہ بنا کر جواب دینے کا بھی اعلان کیا۔ عراقچی نے امریکی نیٹ ورک سی بی ایس کو بتایا کہ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرتا ہے، تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرتا ہے تو یہ جارحانہ کارروائی ہوگی۔ اس کے جواب میں ہم جو کچھ کریں گے وہ اپنے دفاع میں ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی جواب منصفانہ اور قانونی ہوگا۔ ہمارے میزائل امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لیے فطری طور پر ہمیں کچھ اور کرنا ہوگا۔ اس صورت میں ہمیں خطے میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانا ہوگا۔گزشتہ منگل کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دور کے دوران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے چند دنوں کے اندر ایران کی جانب سے ایک تفصیلی تحریری تجویز پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
وٹکوف اور کشنر نے عراقچی کو بتایا کہ ٹرمپ کا موقف ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہ کرنا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایک ایسی ایرانی تجویز پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی جس میں علامتی افزودگی شامل ہو بشرطیکہ ایران یہ ثابت کر دے کہ یہ منصوبہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے تمام راستوں کو روکتا ہے۔دوسری جانب عباس عراقچی نے جمعہ کو ” ایم ایس ناو¿“ چینل پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ہفتے کے آخر تک تجویز کی تیاری مکمل کر لیں گے اور تہران میں سیاسی قیادت کی منظوری ملتے ہی اسے وٹکوف اور کشنر کے حوالے کر دیں گے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ محدود فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں۔یاد رہے ٹرمپ نے جمعرات کو تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے یا انتہائی برے حالات کا سامنا کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی۔ یہ سب کچھ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کمک کی موجودگی میں ہو رہا ہے جس سے وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan