چین کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ سے یکطرفہ ٹیرف منسوخ کرنے پر زور
بیجنگ،23فروری(ہ س)۔امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے صدر ٹرمپ کے متعدد اقدامات کو مسترد کر دینے کے بعد چین نے پیر کے روز امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ صدر کے اعلان کردہ یکطرفہ محصولات منسوخ کر دے۔عدالت نے جمعہ کو تین کے مقابلے میں چھے کی اکثریت سے فیصلہ سنا
چین کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ سے یکطرفہ ٹیرف منسوخ کرنے پر زور


بیجنگ،23فروری(ہ س)۔امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے صدر ٹرمپ کے متعدد اقدامات کو مسترد کر دینے کے بعد چین نے پیر کے روز امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ صدر کے اعلان کردہ یکطرفہ محصولات منسوخ کر دے۔عدالت نے جمعہ کو تین کے مقابلے میں چھے کی اکثریت سے فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ نے انفرادی ممالک پر اچانک محصولات عائد کرنے کے لیے 1977 کے جس قانون پر انحصار کیا ہے، اس کے تحت انہیں ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں ہے۔ٹرمپ نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ایک مختلف قانونی اتھارٹی کے تحت درآمدات پر 10 فیصد نئی عالمی ڈیوٹی کا اعلان کیا اور پھر ہفتے کے روز اسے 15 فیصد کر دیا۔چین کی وزارتِ تجارت نے پیر کو کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے اثرات کا جامع جائزہ لے رہی ہے اور واشنگٹن سے ٹیرف اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔وزارت نے ایک بیان میں کہا، چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر یکطرفہ ٹیرف کے اقدامات منسوخ کر دے۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔نئی 15 فیصد عالمی ڈیوٹیز منگل سے نافذ ہو رہی ہیں اور توقع ہے کہ بعض مصنوعات کے لیے استثنیٰ کے ساتھ یہ 150 دن تک جاری رہیں گی۔چینی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وہ امریکہ کی طرف سے زیادہ محصولات برقرار رکھنے کے ممکنہ اقدام پر ’قریبی توجہ‘ دے رہی ہے۔امریکہ اس وقت تجارتی شراکت داروں پر زیادہ محصولات برقرار رکھنے کے لیے تجارتی تحقیقات جیسے متبادل اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ چین اس پر پوری توجہ دیتا رہے گا اور اپنے مفادات کا پختگی سے تحفظ کرے گا، وزارت نے کہا۔ٹرمپ کے چین کے طے شدہ دورے سے چند ہفتے پہلے یہ انتباہ سامنے آیا ہے۔ امریکی رہنما کا اپنی دوسری مدتِ صدارت میں یہ ملک کا پہلا دورہ ہے۔لیکن امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور شی کے درمیان اپریل میں طے شدہ ملاقات ’تجارت سے متعلق نہیں‘ہے۔جس سپریم کورٹ نے دفتر میں واپسی کے بعد سے بڑی حد تک ٹرمپ کا ساتھ دیا ہے، اس کا فیصلہ ایک عدالتی ادارے کی طرف سے صدر کے لیے ایک حیران کن سرزنش تھی۔ان کی دستخط شدہ اقتصادی پالیسی سے عالمی تجارتی آرڈر تباہ ہو گیا ہے جسے ختم کر کے عدالت نے ایک بڑا سیاسی دھچکا لگایا۔کئی ممالک نے کہا ہے کہ وہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے اور بعد ازاں ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔گریر نے اتوار کو امریکی میڈیا کو بتایا کہ اس فیصلے کے باوجود چین، یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔بیجنگ کے طرزِ عمل کو’غیر معقول‘ محسوس کرنے کے بعد امریکی تجارتی عہدیداروں نے دسمبر میں کلیدی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی حالانکہ یہ جون 2027 تک موخر کر دیے جائیں گے۔بیجنگ نے اس وقت کہا تھا کہ اس نے اس اقدام کی ’پرزور‘ مخالفت کی اور چینی صنعتوں کو غیر معقول طور پر دبانے کے لیے واشنگٹن پر ٹیرف کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande