غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی، دہلی میں ایک اور شخص کی موت
جے پور، 22 فروری (ہ س)۔ 16 فروری کو کھیرتھل-تیجارا ضلع کے بھیواڑی کے خوش کھیڑا انڈسٹریل ایریا میں ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں ہوئے زبردست دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ اٹھارہ سالہ انوپ سنگھ، جو 90 فیصد جھلس گیا تھا، اتوار کی صبح
موت


جے پور، 22 فروری (ہ س)۔ 16 فروری کو کھیرتھل-تیجارا ضلع کے بھیواڑی کے خوش کھیڑا انڈسٹریل ایریا میں ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں ہوئے زبردست دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ اٹھارہ سالہ انوپ سنگھ، جو 90 فیصد جھلس گیا تھا، اتوار کی صبح تقریباً 3 بجے دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں دوران علاج فوت ہوگیا۔

شیخ پور اہیر تھانے کے افسر دیویندر پرساد شرما نے جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، کہا کہ جائے وقوعہ پر سات افراد زندہ جل گئے تھے۔ چار زخمیوں کو تشویشناک حالت میں دہلی ریفر کیا گیا، جن میں سے انوپ سنگھ ولد دنیش پاسوان ساکنہ موتیریار، موتیہاری (بہار) کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ ایک اور شدید طور پر جھلسنے والا شخص زیر علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ دو دیگر کارکنوں کو 17 فروری کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔

دھماکہ اتنا خوفناک تھا کہ کئی لاشیں بری طرح مسخ ہو گئیں۔ کچھ کے صرف سر پائے گئے، جبکہ دیگر کے جسم کے اعضاءمختلف مقامات پر بکھرے ہوئے پائے گئے۔ چونکہ شناخت ناممکن تھی، اس لیے خاندان کے افراد سے ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کیے گئے اور ان کو ملایا گیا۔ تمام مرنے والوں کی شناخت بہار کے موتیہاری علاقے کے رہنے والے کے طور پر ہوئی ہے۔ ٹپوکڑا کے ایس ڈی ایم لکھن سنگھ گرجر کے مطابق ڈی این اے میچنگ کے بعد ہفتہ کی سہ پہر تقریباً چار بجے تمام لاشوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔ ان میں نارائن پور کا سوجنت، گھوراساہن کا منٹو، ابھیشیک، روی، مٹیاریا گاو¿ں کا شیام، مرارپور کا امریش اور منٹو کمار شامل تھے۔ انتظامیہ نے لاشوں کو ٹپوکڑا سی ایچ سی سے مشرقی چمپارن، بہار لے جانے کے لیے ایک ایمبولینس اور خاندان کے افراد کے لیے ایک پرائیویٹ بس کا انتظام کیا۔

ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منیش کمار نے بتایا کہ 16 فروری کی رات کو پلاٹ کے مالک راجندر کمار، فیکٹری آپریٹر ہیمنت شرما اور منیجر-سپروائزر ابھینندن تیواری کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ 17 فروری کو پولیس نے ابھینندن تیواری اور ہیمنت شرما کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے سرمایہ کار ہیمنت سچدیوا کا نام لیا۔ اس کے بعد 20 فروری کی رات پولیس نے مرکزی ملزم ہیمنت سچدیوا کو دہلی میں اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اسے 21 فروری کو تجارہ عدالت میں پیش کیا گیا اور 25 فروری تک ریمانڈ دیا گیا۔

پولیس کے مطابق فیکٹری گارمنٹس مینوفیکچرنگ کے لیے رجسٹرڈ تھی لیکن وہ غیر قانونی طور پر پٹاخے تیار کر رہی تھی۔ بارود کی بڑی مقدار بغیر لائسنس یا حفاظتی معیارات کے ذخیرہ کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی اور یکے بعد دیگرے دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر حادثہ پیش آیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande