

وارانسی، 22 فروری (ہ س)۔ کاشی ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کیمپس میں ہفتہ کی دیر شام برلا ’اے‘ ہاسٹل کے مرکزی دروازے کے سامنے ہوائی فائرنگ کے واقعے سے افراتفری مچ گئی۔ مشتعل طلباء نے واقعے کی مخالفت میں جم کر مظاہرہ کیا اور چیف پراکٹر کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اطلاع پر یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس افسران موقع پر پہنچے اور صورتحال کو کنٹرول کیا۔
دھرنے میں شامل بی اے تیسرے سال کے طالب علم روشن مشرا نے الزام لگایا کہ رات تقریباً 9.30 بجے وہ اپنے ساتھی وشال کمار کے ساتھ ہاسٹل کے مرکزی گیٹ پر کھڑا تھا۔ اسی دوران بائیک سوار تین نوجوان وہاں پہنچے اور مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کی نیت سے چار راونڈ فائرنگ کی۔ روشن کا دعویٰ ہے کہ ایک گولی اس کے سر کے پاس سے گزر گئی۔ جان بچانے کے لیے وہ ہاسٹل کے اندر بھاگا، جس کے بعد بھی حملہ آوروں نے پیچھے سے گولی چلائی۔
طالب علم نے الزام لگایا کہ واقعے کو ایک پہلے نکالے گئے طالب علم کے اشارے پر انجام دیا گیا۔ اس نے الزام لگایا کہ ساسارام بہار کے رہائشی پیوش تیواری، رشبھ اور تاپس اس واقعے میں شامل تھے۔ طالب علم نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ طلباء نے الزام لگایا کہ فائرنگ کے وقت تعینات سیکورٹی اہلکار موقع سے بھاگ گئے۔ اس کو لے کر طلباء اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان تیکھی بحث بھی ہوئی۔ مشتعل طلباء نے یونیورسٹی کے چیف پراکٹر کے خلاف نعرے بازی کر کے کہا کہ کیمپس میں لگاتار باہری عناصر کی آمد و رفت ہو رہی ہے، جس سے طلباء کی سیکورٹی خطرے میں ہے۔
ادھر، معاملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس افسران اور بی ایچ یو چوکی کی ٹیم موقع پر پہنچی۔ پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور طلباء سے پوچھ گچھ کی۔ یونیورسٹی کیمپس میں سیکورٹی انتظامات کو لے کر طلباء میں ناراضگی دیکھی گئی۔ اس سلسلے میں اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے بتایا کہ رات 9.30 بجے اے سی پی بھیلوپور کو اطلاع ملی تھی۔ طالب علم روشن نے فائرنگ کی اطلاع انہیں دی۔ اطلاع ملتے ہی بی ایچ یو چوکی انچارج اور دیگر تھانوں کی فورس موقع پر پہنچ گئی۔ ہم لوگوں نے موقع کا معائنہ کر لیا ہے۔ طلباء نے تحریر بھی دی ہے۔ تحریر کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے آگے کی کارروائی ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن