ماونواز جنگل چھوڑ کر عام زندگی کے دھارے میں شامل ہوجائیں : سابق ماوسٹ ایم وینوگوپال
حیدرآباد، 22 فروری (ہ س)۔ مارچ کے آخرتک ماؤنوازوں کے خاتمہ کے نشانہ کے تحت سیکورٹی فورسس کا آپریشن آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہے۔ اب تک سینکڑوں ماؤنوازہتھیارڈال چکے ہیں جبکہ کئی ماونوازانکاونٹرمیں ہلاک ہوگئے ہیں۔ایسی صورتحال میں مرکزی کمیٹی کے سابق رک
ماونواز جنگل چھوڑ کر عام زندگی کے دھارے میں شامل ہوجائیں : سابق ماوسٹ ایم وینوگوپال


حیدرآباد، 22 فروری (ہ س)۔ مارچ کے آخرتک ماؤنوازوں کے خاتمہ کے نشانہ کے تحت سیکورٹی فورسس کا آپریشن آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہے۔ اب تک سینکڑوں ماؤنوازہتھیارڈال چکے ہیں جبکہ کئی ماونوازانکاونٹرمیں ہلاک ہوگئے ہیں۔ایسی صورتحال میں مرکزی کمیٹی کے سابق رکن اور سینئرسابق ماؤنوازقائدایم وینوگوپال کاخیال ہے کہ باقی ماندہ ماونوازوں کے پاس جنگل چھوڑکرعام زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کے سوا کوئی دوسراراستہ نہیں بچاہے۔ وینوگوپال نے گڑچرولی میں اپنی تحریک میں شمولیت کی وجوہات بتائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پانچ دہائیوں قبل اس وقت تحریک کا حصہ بنے تھے جب دیہاتوں میں جاگیردارانہ نظام عروج پرتھا۔ اس وقت کسانوں کو استحصال،جبراوربندھوامزدوری جیسی سنگین مشکلات کا سامنا تھا،اس سے متاثر ہوکرانہوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیارکیا۔تاہم اب انقلاب کا راستہ چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق حکمت عملی اور طریقہ کارمیں تبدیلی نہ لانے کی وجہ سے تحریک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نئے تلنگانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ترقی کو الگ نظرئیے سے دیکھتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی، عدم مساوات اورذات پات کی تفریق کس حد تک ختم ہوئی؟ان کے مطابق آج کا دور کارپوریٹائزیشن کاہے جوپرانے دورسے مختلف چیلنجس رکھتا ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے 31 مارچ تک دیئے گئے نشانہ اور سیکورٹی فورسس کی کارروائیوں پرانہوں نے کہا کہ مسلسل دباؤ کی وجہ سے پارٹی کوبڑانقصان ہواہے اوراب تحریک کو آگے بڑھانا ناممکن ہے اسی لئے ماؤنوازوں کے لئے عام زندگی میں شامل ہونا ہی واحدراستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ احساس بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن اب بہت دیرہوچکی ہے اسی لئے انہوں نے تحریک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ سی پی آئی ماؤسٹ پارٹی کے مستقبل کے سلسلہ میں انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے اور یہ بات انہیں کئی سال پہلے ہی سمجھ آ گئی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگست 2024 میں پارٹی کے پولیٹیکل بیورو نے ایک سرکلر فائنل کیا تھا جس میں ان تمام مسائل کاذکرہے۔ تلنگانہ ڈی جی پی کی جانب سے ماؤنوازوں کوہتھیارڈالنے کی اپیل پرانہوں نے کہا کہ وہ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ تمام کیڈرباہرآ کرعام زندگی گزاریں۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande