
جموں, 22 فروری (ہ س)سری نگر میں 25 جنوری 1990 کو بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کے اہلکاروں پر ہوئے حملے کے سلسلے میں ایک اور عینی شاہد نے ہفتہ کے روز عدالت میں پیش ہو کر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک اور محمد رفیق پہلو المعروف ناناجی کو حملہ آوروں میں شامل قرار دیا۔
حکام کے مطابق یہ شناخت جموں میں ٹاڈا ،انسداد دہشت گردی ، عدالت میں سماعت کے دوران کی گئی۔ استغاثہ کے اہم گواہ نے عدالت کے روبرو دونوں ملزمان کی نشاندہی کی۔ اس سے قبل 31 جنوری کو ایک اور عینی شاہد یاسین ملک کے قریبی ساتھی شوکت بخشی کو بھی شوٹروں میں شامل قرار دے چکا ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 2024 میں بھارتی فضائیہ کے سابق کارپورل راجور اُمیشور سنگھ، جو اس حملے میں بچ گئے تھے، اُنہوں نے بھی یاسین ملک کو مرکزی شوٹر کے طور پر شناخت کیا تھا۔ اس حملے میں اسکواڈرن لیڈر روی کھنہ سمیت چار فضائی اہلکار ہلاک جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے تھے۔یہ واقعہ 25 جنوری 1990 کو سری نگر کے علاقے راولپورہ میں اُس وقت پیش آیا جب فضائیہ کے اہلکار ڈیوٹی کے لیے پرانے سری نگر ایئر فیلڈ جانے کی خاطر اپنی گاڑی کا انتظار کر رہے تھے کہ مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔اس معاملے میں 31 اگست 1990 کو یاسین ملک اور پانچ دیگر ملزمان کے خلاف نامزد ٹاڈا عدالت میں چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔ دیگر ملزمان میں علی محمد میر، منظور احمد صوفی المعروف مصطفیٰ، جاوید احمد میر المعروف نالکا، جاوید احمد زرگر اور ناناجی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر