
کولکاتہ، 21 فروری (ہ س)۔
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران مختلف علاقوں میں بدامنی اور توڑ پھوڑ کی شکایات کے بعد، مرکزی حکومت نے امن و امان کو لے کر کوئی خطرہ مول نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چنانچہ پولنگ کی تاریخوں کے اعلان سے قبل ہی مرکزی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ہفتہ کو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک ہدایت کے مطابق، آنے والے مارچ کے مہینے میں مرکزی فورسز کی کل 480 کمپنیاں مغربی بنگال میں تعینات کی جائیں گی۔ یہ تعیناتی دو مرحلوں میں ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 240 کمپنیاں یکم مارچ کو پہنچیں گی جبکہ باقی 240 کمپنیاں 10 مارچ کو پہنچیں گی۔
قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو ایس آئی آر سے متعلق ایک کیس میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ حتمی ووٹر لسٹ 28 فروری تک شائع کی جائے، اگر کسی وجہ سے مکمل فہرست تیار نہیں ہو پاتی ہے تو سپلیمنٹری لسٹ شائع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس حکم کے محض 24 گھنٹے بعد مرکزی فورسز کی تعیناتی کے اعلان کو سیاسی تجزیہ کار اہم قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن ان فورسز کو حساس علاقوں کی نگرانی، خوف کو دور کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرے گا۔
ریاست میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے بعد سے کئی مقامات پر کشیدگی کی اطلاع ملی ہے۔ ووٹر لسٹ مبصرین اور بوتھ لیول افسران کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ سال دسمبر میں جنوبی 24 پرگنہ کے مگرہاٹ میں ایک خصوصی مبصر کی گاڑی پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا تھا۔
ان واقعات کی روشنی میں سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ریاست کی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے سخت ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ قوانین کی عدم تعمیل کی ذمہ داری پولیس پر ہوگی۔نا اہل افسران کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں مرکزی فورسز کی تعیناتی کو آئندہ انتخابی عمل سے قبل ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ