
جموں, 21 فروری (ہ س)بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن اسمبلی دیویانی رانا نے جموں و کشمیر میں کھیلوں کے ٹرائلز کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مستحق اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے انتخاب کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔سمبلی میں محکمہ جات کی گرانٹس پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کھیلوں کے ٹرائلز، رپورٹس اور لائیو اسٹریمنگ میں شفافیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ٹولز نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی کر سکتے ہیں بلکہ تربیتی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان انڈر 14 کرکٹ اور فٹبال مقابلوں میں مبینہ علاقائی جانبداری کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی شکایات سامنے آئیں کہ ٹیموں میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی اکثریت تھی جبکہ جموں کے باصلاحیت نوجوانوں کو نظرانداز کیا گیا۔
رکن اسمبلی نے جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم کی پہلی بار رانجی ٹرافی کے فائنل میں رسائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے اسپورٹس انفراسٹرکچر کو اے آئی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جانا چاہیے تاکہ تربیت اور کارکردگی کے تجزیے کو مزید بہتر کیا جا سکے۔انہوں نے نگروٹہ حلقے میں انڈور اسٹیڈیم، والی بال کورٹس، فٹبال اور کرکٹ گراؤنڈز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مقامی کھلاڑیوں کو بنیادی ڈھانچے، طبی سہولیات، تربیتی وسائل اور وظائف فراہم کیے جائیں۔
دیویانی رانا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اے آئی کے فروغ کو شفافیت، جوابدہی، قومی ڈیٹا خودمختاری، رسائی اور افادیت جیسے بنیادی اصولوں پر استوار کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اے آئی سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔رانا نے نگروٹہ کے گورنمنٹ انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالج جموں میں اے آئی سے متعلق مضامین اور مہارتوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی بھی سفارش کی تاکہ طلبہ اس شعبے میں عملی مہارت حاصل کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر