
نئی دہلی، 21 فروری (ہ س)۔ راوس ایونیو کورٹ کی سیشن کورٹ نے 1980 میں ووٹر لسٹ میں مبینہ طور پر نام شامل کرنے کے الزام میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر سماعت ملتوی کر دی ہے۔خصوصی جج وشال گوگنے نے کیس کی اگلی سماعت 13 مارچ کو کرنے کا حکم دیا۔ ہفتہ کو سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سونیا گاندھی کے وکیل ذاتی وجوہات کی بناءپر ان کی طرف سے دلائل پیش کرنے سے قاصر رہیں گے۔ عدالت نے اس کے بعد سماعت 13 مارچ کو مقرر کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے سونیا گاندھی اور دہلی پولیس کو 9 دسمبر 2025 کو نوٹس جاری کیا۔ درخواست وکیل وکاس ترپاٹھی نے دائر کی تھی۔ اس سے قبل 11 ستمبر 2025 کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا حالانکہ وہ 1983 میں ہندوستانی شہری بنی تھیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں دہلی کے نئی دہلی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، حالانکہ وہ اس وقت ہندوستانی شہری نہیں تھیں۔ اس درمیان سونیا گاندھی کا نام 1982 میں ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا اور بعد میں 1983 میں دوبارہ شامل کر دیا گیا۔ سونیا گاندھی 1983 میں ہندوستانی شہری بن گئیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی نے اپریل 1983 میں بھارتی شہریت کے لیے بھی درخواست دی تھی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب سے سونیا گاندھی 1983 میں بھارتی شہری بنی ہیں، اس لیے انہوں نے 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کرائی ہیں، جو قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسے میں عدالت کو سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینا چاہیے۔ مجسٹریٹ کورٹ نے اس معاملے میں سونیا گاندھی یا دہلی پولیس کو نوٹس جاری نہیں کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan