
حیدرآباد، 21 فروری (ہ س)۔
آندھرا پردیش میں بجلی کے صارفین کے لئے ایک بڑی تبدیلی لائی جا رہی ہے جہاں اب اسمارٹ میٹرس کے ذریعہ ہرشہری اپنے بجلی کے اخراجات کوخود کنٹرول کرسکے گا۔ایک وقت تھا جب صارفین کوبجلی کے بل کا انتظارکرناپڑتا تھا اورمیٹرریڈنگ لینے والے ملازم کی آمد کی فکررہتی تھی لیکن اب مرکزی حکومت کی ہدایات پرآندھراپردیش اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی اسمارٹ میٹرس کی ٹکنالوجی کو عام کررہی ہے۔
اس سلسلہ میں عوامی خدشات اورغلط فہمیوں کو دورکرنے کے لئے خصوصی بیداری کے ہفتہ کا انعقاد کیاجارہا ہے جس میں پرچاررتھوں اوراشتہاری موادکے ذریعہ لوگوں کواس جدید ٹکنالوجی کے فوائد بتائے جارہے ہیں۔حکام کے مطابق اسمارٹ میٹرمحض ایک مشین نہیں بلکہ یہ صارف کے اسمارٹ فون سے منسلک ہو جائے گاجس کے لئے ایک خصوصی ایپ بھی تیارکی گئی ہے۔اس ایپ کے ذریعہ صارفین روزانہ کی بنیاد پراپنی بجلی کی کھپت کی نگرانی کرسکیں گے اوراگراستعمال مقررہ حد سے بڑھتا ہے توایپ فوری طورپرالرٹ جاری کرے گی جس سے غیرضروری پنکھے اورلائٹس بندکرکے بل میں کمی لائی جاسکے گی۔ یہ نظام موبائل پری پیڈریچارج کی طرح کام کرے گاجہاں پہلے سے رقم جمع کرانےپر بجلی فراہم کی جائے گی جس سے ماہ کے آخرمیں بھاری بلوں کا صدمہ نہیں پہنچے گا۔
اسمارٹ میٹرس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں انسانی مداخلت کے بغیرریڈنگ براہ راست سرورتک پہنچ جاتی ہے جس سے ریڈنگ میں غلطی کا امکان ختم ہوجاتاہے اورسوفیصد درست بلنگ یقینی ہوتی ہے۔مرکزی وزارت بجلی کی آرڈی ایس ایس اسکیم کے تحت پرانے میٹروں کوہٹاکرنئے اسمارٹ میٹرس نصب کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے اوراس کے لئے صارفین سے کوئی فیس وصول نہیں کی جارہی ہے۔محکمہ بجلی کے حکام کاکہنا ہے کہ اسمارٹ میٹر بوجھ نہیں بلکہ صارف کے ہاتھ میں ایک طاقت ہے جس سے بجلی کی بچت اورشفاف خدمات کا حصول ممکن ہے۔ محکمہ کے ڈی ای رویندرنے وضاحت کی کہ یہ میٹرس اعلیٰ معیاراور درستگی کے حامل ہیں جوپرانے میٹروں کی طرح اچانک جلنے یارکنے کاشکارنہیں ہوتے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی صارف سولارپاورپلانٹ لگاناچاہتاہے تواسے الگ سے نیٹ میٹرلگانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ یہ اسمارٹ میٹرخودنیٹ میٹرکے طورپرکام کرسکتے ہیں۔ صارفین اپنی ضرورت کے مطابق 250 یا 300 یونٹس تک کا کنٹرول سیٹ کرسکتے ہیں تاکہ بجلی کے اسراف کوروکا جا سکے۔ حکام نے اس تاثرکومحض ایک افواہ قراردیا کہ اسمارٹ میٹر تیزی سے چلتے ہیں اور واضح کیا کہ میٹرخراب ہونے کی صورت میں اس کی مرمت کے لیے بھی کوئی سروس چارجس نہیں لئے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق